کلامِ شاعر
- 01 زندگی درد کی کہانی ہے
- 02 زیر و بم سے ساز خلقت کے جہاں بنتا گیا
- 03 زمیں بدلی فلک بدلا مذاق زندگی بدلا
- 04 یہ نکہتوں کی نرم روی یہ ہوا یہ رات
- 05 یہ نرم نرم ہوا جھلملا رہے ہیں چراغ
- 06 وہ چپ چاپ آنسو بہانے کی راتیں
- 07 وقت غروب آج کرامات ہو گئی
- 08 طور تھا کعبہ تھا دل تھا جلوہ زار یار تھا
- 09 تمہیں کیوں کر بتائیں زندگی کو کیا سمجھتے ہیں
- 10 تیز احساس خودی درکار ہے
- 11 ستاروں سے الجھتا جا رہا ہوں
- 12 شام غم کچھ اس نگاہ ناز کی باتیں کرو
- 13 سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں
- 14 سمجھتا ہوں کہ تو مجھ سے جدا ہے
- 15 رکی رکی سی شب مرگ ختم پر آئی
- 16 رس میں ڈوبا ہوا لہراتا بدن کیا کہنا
- 17 رات بھی نیند بھی کہانی بھی
- 18 نگاہ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا
- 19 نرم فضا کی کروٹیں دل کو دکھا کے رہ گئیں
- 20 مجھ کو مارا ہے ہر اک درد و دوا سے پہلے
- 21 میکدے میں آج اک دنیا کو اذن عام تھا
- 22 کچھ نہ کچھ عشق کی تاثیر کا اقرار تو ہے
- 23 کچھ اشارے تھے جنہیں دنیا سمجھ بیٹھے تھے ہم
- 24 کوئی پیغام محبت لب اعجاز تو دے
- 25 کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی
- 26 کمی نہ کی ترے وحشی نے خاک اڑانے میں
- 27 جنون کارگر ہے اور میں ہوں
- 28 جور و بے مہری اغماض پہ کیا روتا ہے
- 29 جہان غنچۂ دل کا فقط چٹکنا تھا
- 30 اک روز ہوئے تھے کچھ اشارات خفی سے
- 31 ہجر و وصال یار کا پردہ اٹھا دیا
- 32 ہر نالہ ترے درد سے اب اور ہی کچھ ہے
- 33 ہاتھ آئے تو وہی دامن جاناں ہو جائے
- 34 غم ترا جلوہ گہہ کون و مکاں ہے کہ جو تھا
- 35 فراقؔ اک نئی صورت نکل تو سکتی ہے
- 36 دیدار میں اک طرفہ دیدار نظر آیا
- 37 دیتے ہیں جام شہادت مجھے معلوم نہ تھا
- 38 دور آغاز جفا دل کا سہارا نکلا
- 39 چھیڑ اے دل یہ کسی شوخ کے رخساروں سے
- 40 چھلک کے کم نہ ہو ایسی کوئی شراب نہیں
- 41 بے ٹھکانے ہے دل غمگیں ٹھکانے کی کہو
- 42 بستیاں ڈھونڈھ رہی ہیں انہیں ویرانوں میں
- 43 بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں
- 44 بحثیں چھڑی ہوئی ہیں حیات و ممات کی
- 45 اپنے غم کا مجھے کہاں غم ہے
- 46 اب دور آسماں ہے نہ دور حیات ہے
- 47 اب اکثر چپ چپ سے رہیں ہیں یونہی کبھو لب کھولیں ہیں
- 48 آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہے
- 49 آج بھی قافلۂ عشق رواں ہے کہ جو تھا
- 50 آئی ہے کچھ نہ پوچھ قیامت کہاں کہاں