کلامِ شاعر
- 01 تقویٰ
- 02 اپنی مرضی کے خلاف
- 03 سڑک کے دونوں طرف خیرت ہے
- 04 پیش لفظ ایک محبت نامے کا
- 05 بھیک
- 06 کتھارسس
- 07 عام معافی کے لیے
- 08 مجھے کچھ یاد آتا ہے
- 09 فریزر میں رکھی شام
- 10 اچھا عشق
- 11 اک آن میں ہوئی اوجھل زمیں نگاہوں سے
- 12 سہمے گنبد اور کبوتر رات بھر
- 13 دنیا ہے اہل عشق کو سب سے بری جگہ
- 14 قریب آ کہ ارادے لہو کے دیکھتے ہیں
- 15 پتہ سب ہے ستائش اور ہوگی
- 16 بھڑکتی آگ ابلتا دھواں بنانے کا
- 17 ہم تشدد کے استعارے نہیں
- 18 اک جنوں اپنا لبادہ ہو گیا
- 19 بپھر اٹھا زباں سے جوں ہی نکلی بات بوسے کی
- 20 آٹھوں پہر کا یہ ترا مزدور آ گیا
- 21 جز خدا اور کوئی حامی و ناصر مل جائے
- 22 جنوں والے بالآخر شاہکاروں سے نکل آئے
- 23 دل اس کی دسترس سے دور ہے کیا
- 24 کیوں ادھر ہی نکل پڑا جائے
- 25 اک چراغ اور اجالے میں نہ رکھا جائے
- 26 تیز آندھیوں کے ساتھ گزارا ہوا مرا
- 27 زرد یادوں سے بھر دیا ہے مجھے
- 28 تمہارے رنگ کی بھی کیا کوئی زنجیر ملتی ہے
- 29 اس کے سوا ہر ایک کی مشکل میں جان ہے
- 30 جسم مصلوب کا یک لخت نیا ہو جانا
- 31 چاہے بے نور ہوں آنکھوں سے بھی خوش ہوتے ہیں
- 32 سارے خوش فہم پئے وصل جئے جاتے ہیں
- 33 دیوار ہے دریچہ نہ در آئے روشنی
- 34 نام سے اس کے پکاروں خود کو
- 35 راستے بھر یہی سوچتے آئے ہیں
- 36 وہ بھولا صبح کا تھا گھر گیا نا
- 37 مدت پہ ملی ٹوٹ کے برسات ہماری
- 38 اپنی خاطر اے خدا یے کام کر
- 39 بدن چراغ نہیں ہیں محبتیں اپنی
- 40 وہ جو سبھی خداؤں کا اک ہے خدا مرے عزیز
- 41 آگ اور خوں کے کھیل سے اب تک بھرا نہ جی
- 42 معبدوں کی بھیڑ میں بجھتے یہ انسانی چراغ
- 43 خالی ہوا ہی تھا کہ کھنکنے لگا بدن
- 44 اب نیا عشق ہے اس کا مری تنہائی سے
- 45 منصب سے محبت کی سبک دوش ہوا میں
- 46 جس کے آنے سے ہوا ہے دفعتاً پانی شراب
- 47 قریب آنے لگے ہیں دور کے دن
- 48 ذرا سا ہو میسر وہ جو مجھ کو
- 49 ثانی نہیں تھا اس کا کوئی بانکپن میں رات
- 50 دوسرے نام سے جیا جائے
- 51 کبھی سوچا ہے کچھ اچھا برا کیا
- 52 بات پھر نکلی نئی اک بات سے
- 53 لاکھ کوئی چیخے چلائے شور اندر کب آتا ہے
- 54 آنکھوں کو آنسوؤں کی ضرورت ہے آج بھی
- 55 سیاہی میں نہا کر سرخ رو ہیں
- 56 اتنا تیار تو مرنے کو نہیں ہے کوئی
- 57 آپ اپنی موت مر جانے دیا
- 58 چمک جو اب کے بڑھی ہے سراب میں کچھ اور
- 59 سیاہی میں تو سایہ ڈوبتا ہے
- 60 لالچ کچھ اور دو کہ فقط دید کیا کریں
- 61 اس آگ نے دیا تھا بڑا مرتبہ مجھے
- 62 سب پھول اٹھا لائے تھے جس دام میں آئے
- 63 وہ مجھ کو میں کسی کو منانے نکل گیا
- 64 کس نے ہمارے شہر پہ ماری ہے روشنی
- 65 جلسہ نہیں جلوس نہیں شاعری نہیں
- 66 عشق تھا واقعہ بنا ڈالا
- 67 باہر نکل کے دیکھیے طوفان کم ہوا
- 68 تھا عشق یا میں واقعی بیمار پڑا تھا
- 69 ٹلنے کا یوں فقیر نہیں ہے یہ عشق ہے
- 70 جھلک بھی مل نہ پائی زندگی کی
- 71 اپنے تیور سے جو کر دیتا ہے سب کو لا کلام
- 72 کچھ ہمیں چھوٹ بھی مل جائے خرافات کی اب
- 73 عشق دل میں کئی جہانوں کا
- 74 نہ سر نہ تال نہ یہ ساز سے ہی روشن ہیں
- 75 گلاب چہرہ شراب راتیں
- 76 ضرور بھول ہوئی ہے کہیں سنانے میں
- 77 وہ مٹی کا ستارہ ہے ہمارا
- 78 سبھی کو مسکرا کر مار ڈالا
- 79 اپنی آغوش فراغت میں پڑا رہتا ہوں
- 80 جب پھیر کر نگاہ ہر اپنا پرایا جائے
- 81 تھے اک خدا کے سامنے اتنے پسارے ہاتھ
- 82 زمین حسب ضرورت اگائی جاتی ہے
- 83 پوچھتا ہے مجھ سے کیا ہو جاؤں میں
- 84 کون اس کو چاہتا میری طرح
- 85 نہیں کہ تب کوئی کاغذ قلم نہ ہوتا تھا
- 86 وہ اک دریا اور اسے حیرانی ہے
- 87 شاہ زماں نے بھیج دیا ریشمی لباس
- 88 بدن بدن کی ضرورت سے مار ڈالا گیا
- 89 جو تیرے ساتھ ذرا دیر تک رکا ہوتا
- 90 بے موسم کی بارش میں دنیا جل تھل ہو جائے
- 91 چشمۂ شیریں الگ ساگر الگ
- 92 مجھ عشق کو ہوس بھری نظریں عطا کرے
- 93 کیوں بھلا آدھا ادھورا عشق کیجے
- 94 کچھ کو دکان کچھ کو خریدار کر چکے
- 95 کہیں سے ڈھونڈھ کر تو لاؤ مجھ کو
- 96 اپنی چاہت کو مرے دکھ کے برابر کر دے
- 97 بہتے رہنا ایک بہانہ ہوتا ہے
- 98 ایک پل میں ٹوٹنے کو ہے سمندر کا سکوت
- 99 گیا بے کار آخر یہ برس بھی
- 100 تم اپنا پہلا قدم تو بڑھاؤ بسم اللہ
- 101 دیکھتے رہیے دور جاتے ہوئے
- 102 صحرا و شہر سب سے آزاد ہو رہا ہوں
- 103 سارے چقماق بدن آئے تھا تیاری سے
- 104 ڈوبنے والا ہی تھا ساحل بر آمد کر لیا
- 105 میری آنکھوں میں دمکتا ہوا چہرہ اس کا
- 106 اتنی تعظیم ہوئی شہر میں عریانی کی
- 107 وہ اپنے شہر فراغت سے کم نکلتا ہے
- 108 رات لمبی تھی ستارہ مرا تعجیل میں تھا
- 109 مصدر عشق کی گردان مکمل کر کے
- 110 دشت میں رات بناتے ہوئے ڈرتا ہوں میں
- 111 سب فنا ہوتے ہوئے شہر ہیں نگرانی میں
- 112 کسی کے سائے کسی کی طرف لپکتے ہوئے
- 113 ہیں لاپتہ زمانے سے سارے کے سارے خواب
- 114 ستارہ ساز یہ ہم پر کرم فرماتے رہتے ہیں
- 115 میں نے بھی اپنے دھیان میں اپنا سفر کیا
- 116 دن بہ دن گھٹتی ہوئی عمر پہ نازل ہو جائے
- 117 بھرے ہوئے ہیں ابھی روشنی کی دولت سے
- 118 مسجدوں میں قتل ہونے کی روایت ہے یہاں
- 119 نئے چراغ کی لو پاؤں سے لپٹتی ہے
- 120 صدیوں سیکھے گا ابھی جان لٹانا مری جان
- 121 سب اپنے اپنے خداؤں میں جا کے بیٹھ گئے
- 122 اس بار انتظام تو سردی کا ہو گیا
- 123 انسانیت کے زعم نے برباد کر دیا
- 124 ایسے ملے نصیب سے سارے خدا کہ بس
- 125 خدا معاف کرے زندگی بناتے ہیں
- 126 تباہ خود کو اسے لا زوال کرتے ہیں
- 127 اب ایسی ویسی محبت کو کیا سنبھالوں میں
- 128 جانے کس امید پہ چھوڑ آئے تھے گھر بار لوگ
- 129 ایک آیت پڑھ کے اپنے آپ پر دم کر دیا
- 130 برسوں پرانے زخم کو بے کار کر دیا
- 131 دل بھی احساسات بھی جذبات بھی
- 132 قاعدے بازار کے اس بار الٹے ہو گئے
- 133 بتاؤں کیسے کہ سچ بولنا ضروری ہے
- 134 آسمانوں سے زمیں کی طرف آتے ہوئے ہم