کلامِ شاعر
- 01 آہ شب نالۂ سحر لے کر
- 02 دیکھنا وہ گریۂ حسرت مآل آ ہی گیا
- 03 لبریز حقیقت گو افسانۂ موسیٰ ہے
- 04 آزاد اس سے ہیں کہ بیاباں ہی کیوں نہ ہو
- 05 شرمندہ کیا جوہر بالغ نظری نے
- 06 سنگ طفلاں فدائے سر نہ ہوا
- 07 لگاؤ نہ جب دل تو پھر کیوں لگاوٹ
- 08 تلخی کش نومیدئ دیدار بہت ہیں
- 09 شوق دیتا ہے مجھے پیغام عشق
- 10 اے اہل وفا خاک بنے کام تمہارا
- 11 نہیں ممکن لب عاشق سے حرف مدعا نکلے
- 12 میں نے مانا کام ہے نالہ دل ناشاد کا
- 13 نہیں کہ عشق نہیں ہے گل و سمن سے مجھے
- 14 شوق نے عشرت کا ساماں کر دیا
- 15 نالوں سے اگر میں نے کبھی کام لیا ہے
- 16 پیمان وفائے یار ہیں ہم
- 17 چلا جاتا ہے کاروان نفس
- 18 وحشتؔ مبتلا خدا کے لیے
- 19 جو تجھ سے شور تبسم ذرا کمی ہوگی
- 20 کس نام مبارک نے مزہ منہ کو دیا ہے
- 21 درد کا میرے یقیں آپ کریں یا نہ کریں
- 22 لطف نہاں سے جب جب وہ مسکرا دئیے ہیں
- 23 یہاں ہر آنے والا بن کے عبرت کا نشاں آیا
- 24 تو ہے اور عیش ہے اور انجمن آرائی ہے
- 25 آپ اپنا روئے زیبا دیکھیے
- 26 وفائے دوستاں کیسی جفائے دشمناں کیسی
- 27 کسی صورت سے اس محفل میں جا کر
- 28 پوشیدہ دیکھتی ہے کسی کی نظر مجھے
- 29 ہوئے ہیں گم جس کی جستجو میں اسی کی ہم جستجو کریں گے
- 30 کسی طرح دن تو کٹ رہے ہیں فریب امید کھا رہا ہوں
- 31 شوق پھر کوچۂ جاناں کا ستاتا ہے مجھے
- 32 مروت کا پاس اور وفا کا لحاظ
- 33 کیا ہے کہ آج چلتے ہو کترا کے راہ سے
- 34 سرور افزا ہوئی آخر شراب آہستہ آہستہ
- 35 تیر نظر نے ظلم کو احساں بنا دیا
- 36 ترے آشفتہ سے کیا حال بیتابی بیاں ہوگا
- 37 یہی ہے عشق کی مشکل تو مشکل آساں ہے
- 38 بہار آئی ہے آرائش چمن کے لیے
- 39 آنکھ میں جلوہ ترا دل میں تری یاد رہے
- 40 آئینۂ خیال تھا عکس پذیر راز کا
- 41 درد آ کے بڑھا دو دل کا تم یہ کام تمہیں کیا مشکل ہے
- 42 کہتے ہو اب مرے مظلوم پہ بیداد نہ ہو
- 43 لوٹا مجھے اس کی ہر ادا نے
- 44 جان اس کی اداؤں پر نکلتی ہی رہے گی
- 45 ضبط کی کوشش ہے جان ناتواں مشکل میں ہے
- 46 جدا کریں گے نہ ہم دل سے حسرت دل کو
- 47 اور عشرت کی تمنا کیا کریں
- 48 دل کے کہنے پہ چلوں عقل کا کہنا نہ کروں
- 49 زمیں روئی ہمارے حال پر اور آسماں رویا