کلامِ شاعر
- 01 وہی ان کی ستیزہ کاری ہے
- 02 کس رقص جان و تن میں مرا دل نہیں رہا
- 03 مسلسل یاد آتی ہے چمک چشم غزالاں کی
- 04 ٹوٹ گیا ہوا کا زور سیل بلا اتر گیا
- 05 عجب نہیں کبھی نغمہ بنے فغاں میری
- 06 منہ اندھیرے جگا کے چھوڑ گئی (ردیف .. ز)
- 07 دست سموم دست صبا کیوں نہیں ہوا
- 08 چشم و لب کیسے ہوں رخسار ہوں کیسے تیرے
- 09 رخصت شب کا سماں پہلے کبھی دیکھا نہ تھا
- 10 مونس دل کوئی نغمہ کوئی تحریر نہیں
- 11 ملال دل سے علاج غم زمانہ کیا
- 12 اداس کر کے دریچے نئے مکانوں کے
- 13 ترے دیوانے ہر رنگ رہے ترے دھیان کی جوت جگائے ہوئے
- 14 پھر وہی رات پھر وہی آواز
- 15 دھڑکتی رہتی ہے دل میں طلب کوئی نہ کوئی
- 16 ہم گرے ہیں جو آ کے اتنی دور
- 17 دکھ کی چیخیں پیار کی سرگوشیاں رہ جائیں گی
- 18 برس کر کھل گیا ابر خزاں آہستہ آہستہ
- 19 لاغر ہیں جسم رنگ ہیں کالے پڑے ہوئے
- 20 کس جھٹپٹے کے رنگ اجالوں میں آ گئے
- 21 خون دل سے کشت غم کو سینچتا رہتا ہوں میں
- 22 کھڑے ہیں دل میں جو برگ و ثمر لگائے ہوئے
- 23 کبھی خواہش نہ ہوئی انجمن آرائی کی
- 24 چمک دمک پہ نہ جاؤ کھری نہیں کوئی شے
- 25 لے کے ہمراہ چھلکتے ہوئے پیمانے کو
- 26 سفر نیا تھا نہ کوئی نیا مسافر تھا
- 27 اب منزل صدا سے سفر کر رہے ہیں ہم
- 28 ہمیں سب اہل ہوس ناپسند رکھتے ہیں
- 29 روشنی رہتی تھی دل میں زخم جب تک تازہ تھا
- 30 اجلا ترا برتن ہے اور صاف ترا پانی
- 31 اک عمر کی اور ضرورت ہے وہی شام و سحر کرنے کے لیے
- 32 رات پھر رنگ پہ تھی اس کے بدن کی خوشبو
- 33 اشک دامن میں بھرے خواب کمر پر رکھا
- 34 کہاں کی گونج دل ناتواں میں رہتی ہے
- 35 اب نہ بہل سکے گا دل اب نہ دیئے جلائیے
- 36 چھن گئی تیری تمنا بھی تمنائی سے
- 37 مجھے اس نے تری خبر دی ہے
- 38 تھا مجھ سے ہم کلام مگر دیکھنے میں تھا
- 39 بہتا آنسو ایک جھلک میں کتنے روپ دکھائے گا
- 40 زمیں سے اگتی ہے یا آسماں سے آتی ہے
- 41 زلف دیکھی وہ دھواں دھار وہ چہرا دیکھا
- 42 منظر صبح دکھانے اسے لایا نہ گیا
- 43 نالۂ خونیں سے روشن درد کی راتیں کرو
- 44 یہ کون خواب میں چھو کر چلا گیا مرے لب
- 45 شام غم یاد ہے کب شمع جلی یاد نہیں
- 46 دنیا میں سراغ رہ دنیا نہیں ملتا
- 47 لبھاتا ہے اگرچہ حسن دریا ڈر رہا ہوں میں
- 48 چاند بھی نکلا ستارے بھی برابر نکلے
- 49 بھاگنے کا کوئی رستہ نہیں رہنے دیتے
- 50 اک پھول میرے پاس تھا اک شمع میرے ساتھ تھی
- 51 ان موسموں میں ناچتے گاتے رہیں گے ہم
- 52 دلوں کی اور دھواں سا دکھائی دیتا ہے
- 53 خواب کے پھولوں کی تعبیریں کہانی ہو گئیں
- 54 دل میں وہ شور نہ آنکھوں میں وہ نم رہتا ہے
- 55 بھولے بسرے موسموں کے درمیاں رہتا ہوں میں
- 56 چھٹ گیا ابر شفق کھل گئی تارے نکلے
- 57 شبنم کو ریت پھول کو کانٹا بنا دیا
- 58 تھم گیا درد اجالا ہوا تنہائی میں
- 59 کہوں کس سے رات کا ماجرا نئے منظروں پہ نگاہ تھی
- 60 آج رو کر تو دکھائے کوئی ایسا رونا
- 61 چاند اس گھر کے دریچوں کے برابر آیا
- 62 کیسے انہیں بھلاؤں محبت جنہوں نے کی
- 63 ہاتھ سے ناپتا ہوں درد کی گہرائی کو
- 64 بہت رک رک کے چلتی ہے ہوا خالی مکانوں میں
- 65 پانی میں عکس اور کسی آسماں کا ہے
- 66 ہر لمحہ ظلمتوں کی خدائی کا وقت ہے
- 67 شام ہوتی ہے تو یاد آتی ہے ساری باتیں
- 68 کس شے پہ یہاں وقت کا سایہ نہیں ہوتا
- 69 یہ کہنا تو نہیں کافی کہ بس پیارے لگے ہم کو
- 70 کہیں امید سی ہے دل کے نہاں خانے میں
- 71 زندگی سے ایک دن موسم خفا ہو جائیں گے
- 72 یہ ہم غزل میں جو حرف و بیاں بناتے ہیں
- 73 اب وہ گلیاں وہ مکاں یاد نہیں
- 74 عشق میں کون بتا سکتا ہے
- 75 پتا اب تک نہیں بدلا ہمارا
- 76 تم آئے ہو تمہیں بھی آزما کر دیکھ لیتا ہوں
- 77 یہ تنہا رات یہ گہری فضائیں
- 78 مل ہی آتے ہیں اسے ایسا بھی کیا ہو جائے گا
- 79 خیر اوروں نے بھی چاہا تو ہے تجھ سا ہونا
- 80 مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے
- 81 مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے