کلامِ شاعر
- 01 جراتِ عشق ہے گر قابلِ تعذیر نہ دیکھ
- 02 سزا وارِ رشکِ جہاں ہو گئے ہم
- 03 دل میں اب درد محبت کے سوا کچھ بھی نہیں
- 04 مہرباں مجھ پہ کوئی ناز کا پالا ہوتا
- 05 نہ دیجے دعوت عشرت گلوں کے سائے میں
- 06 نگاہیں تری بے اماں اور بھی ہیں
- 07 جلوہ کرم کا اس نے دکھایا نہیں ہنوز
- 08 سر کو ہوا ہے پھر وہی سودائے زندگی
- 09 مجھے ملے بھی تو کیوں کر ملے خبر میری
- 10 جھلکتا ہے غم میری ہر اک خوشی سے
- 11 پھر ان کو عرض غم پہ ہنسی آ رہی ہے آج
- 12 موت سے درد محبت کی دوا مانگی ہے
- 13 ہوں ازل سے منتظر بیٹھا ہوا
- 14 نہ جس میں حادثے غم کے ہوں زندگی کے لئے
- 15 نگاہ ناز کو خودبیں بنا کے آیا ہوں
- 16 اک بے وفا کو خوگر جور و جفا کیا
- 17 اٹھا کے بار حقارت ہنسی خوشی میں نے
- 18 نگاہ شرمگیں سے جب محبت بٹ رہی ہوگی
- 19 عزیز کیوں نہ ہو پھر غم ترا خوشی کی طرح
- 20 جلووں سے مرے ہوش اڑانے میں لگے ہیں
- 21 اب یاد تری درد کو بہلا نہ سکے گی
- 22 خوش و خرم نہ کوئی ذات ملی
- 23 میں نے پائی نہیں جینے کی سزا کون سے دن
- 24 دھڑکا ہے راہ غم میں مرا دل جگہ جگہ
- 25 وہ تشنگیٔ شوق بجھاتے تو بات تھی
- 26 ہر اک منزل ہر اک ساحل ہر اک طوفاں سے ٹکرائی
- 27 رنج و غم مونس بنے حسرت سے یارانہ ہوا
- 28 ان کی صورت جہاں نظر آئی
- 29 غم ترا جان سے بھی پیارا ہے
- 30 بہت حسین بڑی پر بہار گزری ہے
- 31 ہے برابر اسے ملا نہ ملا
- 32 محبت کا سجدہ ادا ہو نہ جائے
- 33 خدا کے واسطے اب بے رخی سے کام نہ لے
- 34 جب خود تڑپ کے وہ مری باہوں میں آ گئے
- 35 جذبات محبت چھپ نہ سکے گو ضبط سے ہم نے کام لیا
- 36 یوں تو پہلو میں مرے آئے تو شرما جائے ہے
- 37 ہے عجیب کشمکش میں غم آرزو کا مارا
- 38 رشک مست شباب ہو تم تو
- 39 یاد آتے گئے بھلانے سے
- 40 ان کو اپنا بنا کے دیکھ لیا
- 41 برباد محبت کا بس اتنا فسانہ ہے
- 42 ان سے پہلی سی ملاقات نہیں ہوتی ہے
- 43 ترے بغیر سکون و قرار کو ترسے
- 44 میری تقدیر میں جلنا ہے تو جل جاؤں گا
- 45 خدا کے واسطے اب بے رخی سے کام نہ لے