کلامِ شاعر
- 01 ہم اہل خوف
- 02 تلخیاں
- 03 یہ جو شام زر نگار ہے
- 04 ایک نظم
- 05 جو لوگ راتوں کو جاگتے تھے
- 06 بارش کی نظم
- 07 جلوہ ساماں رخ جاناں نہ ہوا تھا سو ہوا
- 08 شعلۂ تنہائی سے سب بام و در جل جائیں گے
- 09 رہی اگرچہ نگاروں کی مہربانی بھی
- 10 سجے سجائے ہوئے سبز منظروں سے نہ جائیں
- 11 تھا مکان دل کسی اور کا پہ رہا بسا کوئی دوسرا
- 12 چمک رہا ہے مرا سر بھی میں بھی دنیا بھی
- 13 اس کی باتوں میں ہے شامل زندگانی کس قدر
- 14 ملال عمر گریزاں کا کرتے رہتے ہیں
- 15 ہجر کے موسم میں یادیں وصل کی راتوں میں ہیں
- 16 ابھی زمین کو سودا بہت سروں کا ہے
- 17 ہوا ہوس کے علاقے دکھا رہی ہے مجھے
- 18 مرے شجر تجھے موسم نیا بناتے رہیں
- 19 اس ابر سے بھی قباحت زیادہ ہوتی ہے
- 20 عشق میں ہجر کے صدمے بھی اٹھائے نہیں ہیں
- 21 یقیں سے نکلے تو جیسے گماں کی زد میں ہیں
- 22 سورج کی طرح قریۂ مہتاب میں آیا
- 23 جو عکس یار تہہ آب دیکھ سکتے ہیں
- 24 دل وحشی تجھے اک بار پھر زنجیر کرنا ہے
- 25 طلب کی راہوں میں سارے عالم نئے نئے سے
- 26 شب سیاہ سے جو استفادہ کرتے ہیں
- 27 ہم اپنے ہجر میں اپنے وصال میں گم ہیں
- 28 جلے چراغ بھلا کیسے تا سحر کوئی
- 29 موسم ہجر تو دائم ہے نہ رخصت ہوگا
- 30 وقت کی بازگشت سے کب یہ ہوا کہ ڈر گئے
- 31 وہ جنہیں دشت انا سے پار ہونا تھا ہوئے
- 32 مجھے بھی وحشت صحرا پکار میں بھی ہوں
- 33 نہ احتجاج نہ آوارگی میں دیکھ مجھے
- 34 اداس رات کا دکھ جانتا کوئی بھی نہ تھا
- 35 یہی نہیں کہ مرا گھر بدلتا جاتا ہے
- 36 سب کے پیروں میں وہی رزق کا چکر کیوں ہے
- 37 کیوں مجھ کو گھنی چھاؤں میں مرنے نہیں دیتا
- 38 ابھی ہوس کے ہزاروں بہانے زندہ ہیں
- 39 خوشی بھی اب سراپا غم لگے ہے
- 40 سیاہ رات سے ہم روشنی بناتے ہیں
- 41 سفر بھی کوئی نہ ہو رہ گزر بھی کوئی نہ ہو
- 42 دلوں پر خوف بھی طاری بہت ہے
- 43 دل و نظر کو لہو میں ڈبونا آتا ہے
- 44 کس نے کوئی سچ لکھا ہے یہ فقط الزام ہے
- 45 پرانے گھر سے نکل کر نئے مکان کی سمت
- 46 ہر اک یقین کو ہم نے گماں بنا دیا ہے
- 47 سچ بول کے بچنے کی روایت نہیں کوئی
- 48 میری نفرت بھی ہے شعروں میں مرے پیار کے ساتھ
- 49 پوشیدہ کیوں ہے طور پہ جلوہ دکھا کے دیکھ
- 50 کھلے ہیں دشت میں نفرت کے پھول آہستہ آہستہ
- 51 خاک تو ہم بھی ہر اک دشت کی چھانے ہوئے ہیں
- 52 کچھ لوگ جی رہے ہیں خدا کے بغیر بھی
- 53 وہ آدمی جو تری آرزو میں مرتا ہے
- 54 زمیں کو آسماں لکھا گیا ہے
- 55 داستاں وصل کی اک بات سے آگے نہ بڑھی
- 56 تلاش رزق میں دیوان کرتا رہتا ہوں
- 57 راستہ کوئی سفر کوئی مسافت کوئی
- 58 آنکھوں نے بہت دن سے قیامت نہیں دیکھی
- 59 نئی زمین نیا آسماں تلاش کرو
- 60 جسے نہ میری اداسی کا کچھ خیال آیا
- 61 بڑے نادان تھے ہم ریت کو آب رواں سمجھے
- 62 ترا وصال ہے بہتر کہ تیرا کھو جانا
- 63 عجب دن تھے کہ ان آنکھوں میں کوئی خواب رہتا تھا
- 64 روشنی میں کس قدر دیوار و در اچھے لگے
- 65 مرے لوگ خیمۂ صبر میں مرے شہر گرد ملال میں
- 66 مری انا مرے دشمن کو تازیانہ ہے
- 67 نظر اٹھا کے جو دیکھا ادھر کوئی بھی نہ تھا
- 68 وقت اک دریا ہے دریا سب بہا لے جائے گا
- 69 حریف کوئی نہیں دوسرا بڑا میرا
- 70 یہ دھوپ چھاؤں کے اسرار کیا بتاتے ہیں
- 71 شاخ سے پھول سے کیا اس کا پتہ پوچھتی ہے
- 72 یہ لوگ خواب بہت کربلا کے دیکھتے ہیں
- 73 وہ ایک نام جو دریا بھی ہے کنارا بھی
- 74 کہتے ہیں لوگ شہر تو یہ بھی خدا کا ہے
- 75 ہوا کے پاس بس اک تازیانہ ہوتا ہے
- 76 وہ لوگ بھی کیسے لوگ ہیں جو کوئی بات فضول نہیں کرتے
- 77 دیار عشق کی شمعیں جلا تو سکتے ہیں
- 78 سیل گریہ کا سینے سے رشتہ بہت
- 79 جس کو ہونا ہے وہ ان آنکھوں سے اوجھل ہو جائے
- 80 پوچھو اگر تو کرتے ہیں انکار سب کے سب
- 81 پتھر پانی ہو جاتے ہیں
- 82 سخن وری کا بہانہ بناتا رہتا ہوں
- 83 یہ زندہ رہنے کا موسم گزر نہ جائے کہیں
- 84 گاؤں کی آنکھ سے بستی کی نظر سے دیکھا
- 85 سب اک چراغ کے پروانے ہونا چاہتے ہیں
- 86 بچھڑ کے تجھ سے کسی دوسرے پہ مرنا ہے