کلامِ شاعر
- 01 مجھ کو ملنا ہے وحید اخترؔ سے
- 02 امید و بیم
- 03 گم شدہ
- 04 لا زوال سکوت
- 05 پھر سفر بے سمت بے منزل ہوا
- 06 چلو تم کو....
- 07 ایک خوش خبری
- 08 لا زوال ہونے کا
- 09 ایک منظر
- 10 رتجگوں کا زوال
- 11 منظم مناظر سے آگے
- 12 کچے رستوں سے
- 13 نفی سے اثبات تک
- 14 عجیب کام
- 15 جسم کی کشتی میں آ
- 16 سوگندھی
- 17 ایک نظم
- 18 آخری سانس
- 19 اعتراف
- 20 ایک سیاسی نظم
- 21 سائے
- 22 نیا افق
- 23 نجمہؔ کے لیے ایک نظم
- 24 ایک کالی نظم
- 25 خواب
- 26 نئے عہد کا نیا سوال
- 27 خلیل الرحمن اعظمی کی یاد میں
- 28 واپسی
- 29 فیصلے کی گھڑی
- 30 آرزو
- 31 کھیل کا نتیجہ
- 32 نیا امرت
- 33 نیا کھیل
- 34 اب کے برس
- 35 موت
- 36 وہ موڑ
- 37 ایک لمحے سے دوسرے لمحے تک
- 38 تنبیہ
- 39 اپنی یاد میں
- 40 زندہ رہنے کا یہ احساس
- 41 عہد حاضر کی دل ربا مخلوق
- 42 وہ کون تھا
- 43 رات جدائی کی رات
- 44 ایک اور موت
- 45 چپکے سے ادھر آ جاؤ
- 46 تنہائی
- 47 زوال کی حد
- 48 ایک اور سال گرہ
- 49 خواب کا در بند ہے
- 50 معبد زیست میں بت کی مثال جڑے ہوں گے
- 51 فضائے میکدہ بے رنگ لگ رہی ہے مجھے
- 52 تمام خلق خدا دیکھ کے یہ حیراں ہے
- 53 ہوا چلے ورق آرزو پلٹ جائے
- 54 دیکھ دریا کو کہ طغیانی میں ہے
- 55 گرد کو کدورتوں کی دھو نہ پائے ہم
- 56 بنیاد جہاں میں کجی کیوں ہے
- 57 نشاط غم بھی ملا رنج شاد مانی بھی
- 58 ہزار بار مٹی اور پائمال ہوئی ہے
- 59 زمیں سے تا بہ فلک دھند کی خدائی ہے
- 60 بھٹک گیا کہ منزلوں کا وہ سراغ پا گیا
- 61 ہر خواب کے مکاں کو مسمار کر دیا ہے
- 62 لاکھ خورشید سر بام اگر ہیں تو رہیں (ردیف .. ے)
- 63 ہماری آنکھ میں نقشہ یہ کس مکان کا ہے
- 64 اس کو کسی کے واسطے بے تاب دیکھتے
- 65 ترے قریب جو چپکے کھڑا ہوا تھا میں
- 66 موم کے جسموں والی اس مخلوق کو رسوا مت کرنا
- 67 کب سماں دیکھیں گے ہم زخموں کے بھر جانے کا
- 68 آندھی کی زد میں شمع تمنا جلائی جائے
- 69 کہتا نہیں ہوں لوگو میں کر کے دکھاؤں گا
- 70 عکس کو قید کہ پرچھائیں کو زنجیر کریں
- 71 ہجوم درد ملا زندگی عذاب ہوئی
- 72 آنکھ کی یہ ایک حسرت تھی کہ بس پوری ہوئی
- 73 کاروبار شوق میں بس فائدہ اتنا ہوا
- 74 شمع دل شمع تمنا نہ جلا مان بھی جا
- 75 شہر جنوں میں کل تلک جو بھی تھا سب بدل گیا
- 76 نہیں روک سکو گے جسم کی ان پروازوں کو
- 77 نکلا ہے چاند شب کی پذیرائی کے لئے
- 78 دھوپ کے دشت میں بے سایہ شجر میں ہم تھے
- 79 گزرے تھے حسین ابن علی رات ادھر سے
- 80 دام الفت سے چھوٹتی ہی نہیں
- 81 کہنے کو تو ہر بات کہی تیرے مقابل (ردیف .. ے)
- 82 کھلے جو آنکھ کبھی دیدنی یہ منظر ہیں
- 83 یہ کیا ہوا کہ طبیعت سنبھلتی جاتی ہے
- 84 بھولی بسری یادوں کی بارات نہیں آئی
- 85 بہتے دریاؤں میں پانی کی کمی دیکھنا ہے
- 86 دیار دل نہ رہا بزم دوستاں نہ رہی
- 87 جہاں پہ تیری کمی بھی نہ ہو سکے محسوس (ردیف .. ی)
- 88 یہ اک شجر کہ جس پہ نہ کانٹا نہ پھول ہے
- 89 یہ جگہ اہل جنوں اب نہیں رہنے والی
- 90 منظر گزشتہ شب کے دامن میں بھر رہا ہے
- 91 ہم پڑھ رہے تھے خواب کے پرزوں کو جوڑ کے
- 92 طلسم ختم چلو آہ بے اثر کا ہوا
- 93 بے تاب ہیں اور عشق کا دعویٰ نہیں ہم کو
- 94 گلاب جسم کا یوں ہی نہیں کھلا ہوگا
- 95 یہ جب ہے کہ اک خواب سے رشتہ ہے ہمارا
- 96 تیری سانسیں مجھ تک آتے بادل ہو جائیں
- 97 مشعل درد پھر ایک بار جلا لی جائے
- 98 تیرے سوا بھی کوئی مجھے یاد آنے والا تھا
- 99 جدا ہوئے وہ لوگ کہ جن کو ساتھ میں آنا تھا
- 100 یہ قافلے یادوں کے کہیں کھو گئے ہوتے
- 101 ہنس رہا تھا میں بہت گو وقت وہ رونے کا تھا
- 102 تو کہاں ہے تجھ سے اک نسبت تھی میری ذات کو
- 103 ایسے ہجر کے موسم کب کب آتے ہیں
- 104 ہوا کا زور ہی کافی بہانہ ہوتا ہے
- 105 زخموں کو رفو کر لیں دل شاد کریں پھر سے
- 106 سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کا
- 107 دل پریشاں ہو مگر آنکھ میں حیرانی نہ ہو
- 108 دل میں اترے گی تو پوچھے گی جنوں کتنا ہے
- 109 آندھیاں آتی تھیں لیکن کبھی ایسا نہ ہوا
- 110 پہلے نہائی اوس میں پھر آنسوؤں میں رات
- 111 کس فکر کس خیال میں کھویا ہوا سا ہے
- 112 نسبت رہے تم سے سدا حضرت نظام الدین جی
- 113 کہاں تک وقت کے دریا کو ہم ٹھہرا ہوا دیکھیں
- 114 تیرے وعدے کو کبھی جھوٹ نہیں سمجھوں گا
- 115 وہ بے وفا ہے ہمیشہ ہی دل دکھاتا ہے
- 116 آہٹ جو سنائی دی ہے ہجر کی شب کی ہے
- 117 آسماں کچھ بھی نہیں اب تیرے کرنے کے لیے
- 118 جاگتا ہوں میں ایک اکیلا دنیا سوتی ہے
- 119 شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہے
- 120 امید سے کم چشم خریدار میں آئے
- 121 تجھ سے بچھڑے ہیں تو اب کس سے ملاتی ہے ہمیں
- 122 کس کس طرح سے مجھ کو نہ رسوا کیا گیا
- 123 جہاں میں ہونے کو اے دوست یوں تو سب ہوگا
- 124 یہ کیا ہے محبت میں تو ایسا نہیں ہوتا
- 125 نظر جو کوئی بھی تجھ سا حسیں نہیں آتا
- 126 شدید پیاس تھی پھر بھی چھوا نہ پانی کو
- 127 دل میں رکھتا ہے نہ پلکوں پہ بٹھاتا ہے مجھے
- 128 جو چاہتی دنیا ہے وہ مجھ سے نہیں ہوگا
- 129 سیاہ رات نہیں لیتی نام ڈھلنے کا
- 130 جب بھی ملتی ہے مجھے اجنبی لگتی کیوں ہے
- 131 زندگی جیسی توقع تھی نہیں کچھ کم ہے
- 132 عجیب سانحہ مجھ پر گزر گیا یارو
- 133 یہ کیا جگہ ہے دوستو یہ کون سا دیار ہے
- 134 ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیں
- 135 دل چیز کیا ہے آپ مری جان لیجئے
- 136 جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے
- 137 زندگی جب بھی تری بزم میں لاتی ہے ہمیں
- 138 سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہے
- 139 مجھ کو ملنا ہے وحید اخترؔ سے
- 140 امید و بیم
- 141 گم شدہ
- 142 لا زوال سکوت
- 143 پھر سفر بے سمت بے منزل ہوا
- 144 چلو تم کو....
- 145 ایک خوش خبری
- 146 لا زوال ہونے کا
- 147 ایک منظر
- 148 رتجگوں کا زوال
- 149 منظم مناظر سے آگے
- 150 کچے رستوں سے
- 151 نفی سے اثبات تک
- 152 عجیب کام
- 153 جسم کی کشتی میں آ
- 154 سوگندھی
- 155 ایک نظم
- 156 آخری سانس
- 157 اعتراف
- 158 ایک سیاسی نظم
- 159 سائے
- 160 نیا افق
- 161 نجمہؔ کے لیے ایک نظم
- 162 ایک کالی نظم
- 163 خواب
- 164 نئے عہد کا نیا سوال
- 165 خلیل الرحمن اعظمی کی یاد میں
- 166 واپسی
- 167 فیصلے کی گھڑی
- 168 آرزو
- 169 کھیل کا نتیجہ
- 170 نیا امرت
- 171 نیا کھیل
- 172 اب کے برس
- 173 موت
- 174 وہ موڑ
- 175 ایک لمحے سے دوسرے لمحے تک
- 176 تنبیہ
- 177 اپنی یاد میں
- 178 زندہ رہنے کا یہ احساس
- 179 عہد حاضر کی دل ربا مخلوق
- 180 وہ کون تھا
- 181 رات جدائی کی رات
- 182 ایک اور موت
- 183 چپکے سے ادھر آ جاؤ
- 184 تنہائی
- 185 زوال کی حد
- 186 ایک اور سال گرہ
- 187 خواب کا در بند ہے
- 188 معبد زیست میں بت کی مثال جڑے ہوں گے
- 189 فضائے میکدہ بے رنگ لگ رہی ہے مجھے
- 190 تمام خلق خدا دیکھ کے یہ حیراں ہے
- 191 ہوا چلے ورق آرزو پلٹ جائے
- 192 دیکھ دریا کو کہ طغیانی میں ہے
- 193 گرد کو کدورتوں کی دھو نہ پائے ہم
- 194 بنیاد جہاں میں کجی کیوں ہے
- 195 نشاط غم بھی ملا رنج شاد مانی بھی
- 196 ہزار بار مٹی اور پائمال ہوئی ہے
- 197 زمیں سے تا بہ فلک دھند کی خدائی ہے
- 198 بھٹک گیا کہ منزلوں کا وہ سراغ پا گیا
- 199 ہر خواب کے مکاں کو مسمار کر دیا ہے
- 200 لاکھ خورشید سر بام اگر ہیں تو رہیں (ردیف .. ے)
- 201 ہماری آنکھ میں نقشہ یہ کس مکان کا ہے
- 202 اس کو کسی کے واسطے بے تاب دیکھتے
- 203 ترے قریب جو چپکے کھڑا ہوا تھا میں
- 204 موم کے جسموں والی اس مخلوق کو رسوا مت کرنا
- 205 کب سماں دیکھیں گے ہم زخموں کے بھر جانے کا
- 206 آندھی کی زد میں شمع تمنا جلائی جائے
- 207 کہتا نہیں ہوں لوگو میں کر کے دکھاؤں گا
- 208 عکس کو قید کہ پرچھائیں کو زنجیر کریں
- 209 ہجوم درد ملا زندگی عذاب ہوئی
- 210 آنکھ کی یہ ایک حسرت تھی کہ بس پوری ہوئی
- 211 کاروبار شوق میں بس فائدہ اتنا ہوا
- 212 شمع دل شمع تمنا نہ جلا مان بھی جا
- 213 شہر جنوں میں کل تلک جو بھی تھا سب بدل گیا
- 214 نہیں روک سکو گے جسم کی ان پروازوں کو
- 215 نکلا ہے چاند شب کی پذیرائی کے لئے
- 216 دھوپ کے دشت میں بے سایہ شجر میں ہم تھے
- 217 گزرے تھے حسین ابن علی رات ادھر سے
- 218 دام الفت سے چھوٹتی ہی نہیں
- 219 کہنے کو تو ہر بات کہی تیرے مقابل (ردیف .. ے)
- 220 کھلے جو آنکھ کبھی دیدنی یہ منظر ہیں
- 221 یہ کیا ہوا کہ طبیعت سنبھلتی جاتی ہے
- 222 بھولی بسری یادوں کی بارات نہیں آئی
- 223 بہتے دریاؤں میں پانی کی کمی دیکھنا ہے
- 224 دیار دل نہ رہا بزم دوستاں نہ رہی
- 225 جہاں پہ تیری کمی بھی نہ ہو سکے محسوس (ردیف .. ی)
- 226 یہ اک شجر کہ جس پہ نہ کانٹا نہ پھول ہے
- 227 یہ جگہ اہل جنوں اب نہیں رہنے والی
- 228 منظر گزشتہ شب کے دامن میں بھر رہا ہے
- 229 ہم پڑھ رہے تھے خواب کے پرزوں کو جوڑ کے
- 230 طلسم ختم چلو آہ بے اثر کا ہوا
- 231 بے تاب ہیں اور عشق کا دعویٰ نہیں ہم کو
- 232 گلاب جسم کا یوں ہی نہیں کھلا ہوگا
- 233 یہ جب ہے کہ اک خواب سے رشتہ ہے ہمارا
- 234 تیری سانسیں مجھ تک آتے بادل ہو جائیں
- 235 مشعل درد پھر ایک بار جلا لی جائے
- 236 تیرے سوا بھی کوئی مجھے یاد آنے والا تھا
- 237 جدا ہوئے وہ لوگ کہ جن کو ساتھ میں آنا تھا
- 238 یہ قافلے یادوں کے کہیں کھو گئے ہوتے
- 239 ہنس رہا تھا میں بہت گو وقت وہ رونے کا تھا
- 240 تو کہاں ہے تجھ سے اک نسبت تھی میری ذات کو
- 241 ایسے ہجر کے موسم کب کب آتے ہیں
- 242 ہوا کا زور ہی کافی بہانہ ہوتا ہے
- 243 زخموں کو رفو کر لیں دل شاد کریں پھر سے
- 244 سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کا
- 245 دل پریشاں ہو مگر آنکھ میں حیرانی نہ ہو
- 246 دل میں اترے گی تو پوچھے گی جنوں کتنا ہے
- 247 آندھیاں آتی تھیں لیکن کبھی ایسا نہ ہوا
- 248 پہلے نہائی اوس میں پھر آنسوؤں میں رات
- 249 کس فکر کس خیال میں کھویا ہوا سا ہے
- 250 نسبت رہے تم سے سدا حضرت نظام الدین جی
- 251 کہاں تک وقت کے دریا کو ہم ٹھہرا ہوا دیکھیں
- 252 تیرے وعدے کو کبھی جھوٹ نہیں سمجھوں گا
- 253 وہ بے وفا ہے ہمیشہ ہی دل دکھاتا ہے
- 254 آہٹ جو سنائی دی ہے ہجر کی شب کی ہے
- 255 آسماں کچھ بھی نہیں اب تیرے کرنے کے لیے
- 256 جاگتا ہوں میں ایک اکیلا دنیا سوتی ہے
- 257 شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہے
- 258 امید سے کم چشم خریدار میں آئے
- 259 تجھ سے بچھڑے ہیں تو اب کس سے ملاتی ہے ہمیں
- 260 کس کس طرح سے مجھ کو نہ رسوا کیا گیا
- 261 جہاں میں ہونے کو اے دوست یوں تو سب ہوگا
- 262 یہ کیا ہے محبت میں تو ایسا نہیں ہوتا
- 263 نظر جو کوئی بھی تجھ سا حسیں نہیں آتا
- 264 شدید پیاس تھی پھر بھی چھوا نہ پانی کو
- 265 دل میں رکھتا ہے نہ پلکوں پہ بٹھاتا ہے مجھے
- 266 جو چاہتی دنیا ہے وہ مجھ سے نہیں ہوگا
- 267 سیاہ رات نہیں لیتی نام ڈھلنے کا
- 268 جب بھی ملتی ہے مجھے اجنبی لگتی کیوں ہے
- 269 زندگی جیسی توقع تھی نہیں کچھ کم ہے
- 270 عجیب سانحہ مجھ پر گزر گیا یارو
- 271 یہ کیا جگہ ہے دوستو یہ کون سا دیار ہے
- 272 ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیں
- 273 دل چیز کیا ہے آپ مری جان لیجئے
- 274 جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے
- 275 زندگی جب بھی تری بزم میں لاتی ہے ہمیں
- 276 سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہے
- 277 زندگی جیسی توقع تھی نہیں کچھ کم ہے
- 278 عجیب سانحہ مجھ پر گزر گیا یارو
- 279 یہ کیا جگہ ہے دوستو یہ کون سا دیار ہے
- 280 ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیں
- 281 دل چیز کیا ہے آپ مری جان لیجئے
- 282 جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے
- 283 زندگی جب بھی تری بزم میں لاتی ہے ہمیں
- 284 سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہے
- 285 جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے