کلامِ شاعر
- 01 رنگ باد صبا میں بھرتا ہے
- 02 بزم سے جب نگار اٹھتا ہے
- 03 تم میرا دکھ بانٹ رہی ہو اور میں دل میں شرمندہ ہوں
- 04 زمانے بھر کو اداس کر کے
- 05 زندگی کیا ہے اک کہانی ہے
- 06 ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا
- 07 اس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیں
- 08 عمر گزرے گی امتحان میں کیا
- 09 تو بھی چپ ہے میں بھی چپ ہوں یہ کیسی تنہائی ہے
- 10 تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو
- 11 ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں
- 12 تنگ آغوش میں آباد کروں گا تجھ کو
- 13 سینہ دہک رہا ہو تو کیا چپ رہے کوئی
- 14 شرمندگی ہے ہم کو بہت ہم ملے تمہیں
- 15 سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں
- 16 سارے رشتے تباہ کر آیا
- 17 روح پیاسی کہاں سے آتی ہے
- 18 نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
- 19 کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے
- 20 کس سے اظہار مدعا کیجے
- 21 خوب ہے شوق کا یہ پہلو بھی
- 22 کام کی بات میں نے کی ہی نہیں
- 23 جز گماں اور تھا ہی کیا میرا
- 24 جو ہوا جونؔ وہ ہوا بھی نہیں
- 25 جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگی
- 26 اک ہنر ہے جو کر گیا ہوں میں
- 27 ایذا دہی کی داد جو پاتا رہا ہوں میں
- 28 ہر دھڑکن ہیجانی تھی ہر خاموشی طوفانی تھی
- 29 ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیں
- 30 ہم جی رہے ہیں کوئی بہانہ کیے بغیر
- 31 حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی
- 32 گھر سے ہم گھر تلک گئے ہوں گے
- 33 گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا
- 34 ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے
- 35 دل نے وفا کے نام پر کار وفا نہیں کیا
- 36 دل کی تکلیف کم نہیں کرتے
- 37 دل جو ہے آگ لگا دوں اس کو
- 38 چلو باد بہاری جا رہی ہے
- 39 بے قراری سی بے قراری ہے
- 40 بے دلی کیا یوں ہی دن گزر جائیں گے
- 41 بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا
- 42 بڑا احسان ہم فرما رہے ہیں
- 43 اپنے سب یار کام کر رہے ہیں
- 44 اپنا خاکہ لگتا ہوں
- 45 عیش امید ہی سے خطرہ ہے
- 46 اے صبح میں اب کہاں رہا ہوں
- 47 ابھی اک شور سا اٹھا ہے کہیں
- 48 ابھی فرمان آیا ہے وہاں سے
- 49 اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھا
- 50 اب کسی سے مرا حساب نہیں
- 51 آپ اپنا غبار تھے ہم تو
- 52 آخری بار آہ کر لی ہے
- 53 آج لب گہر فشاں آپ نے وا نہیں کیا
- 54 آدمی وقت پر گیا ہوگا