کلامِ شاعر
- 01 تیر اس بار نشانے کی طرف سے آیا
- 02 دکھائی دیتا ہوں اپنے سبب سے ہوتا ہوا
- 03 یہ دل کا خالی جام لیے کیا ادھر ادھر ٹکراتا ہے
- 04 یہ بات راہرو نکتہ داں سے دور نہیں
- 05 ہر سمت گونجتا ہوا آوازہ ہے مرا
- 06 دور ہی سے نظر آ جائے گا جوتا میرا
- 07 دھیان میں آتی ہوئی دل میں لپکتی ہوئی ہے
- 08 یہی نہیں کہ یوںہی گرد اڑاتا رہتا ہوں
- 09 کڑک رہا تھا فلک اور زمیں لرز رہی تھی
- 10 بہت دنوں میں ی کار ہنر کیا میں نے
- 11 شام تھی اور کوئی گھر سے نکلتا ہوا تھا
- 12 تلاش اپنی تھی ہم کو کہ جستجو تری تھی
- 13 جدھر نگاہ کروں اک نیا سمندر ہے
- 14 جو ناگوار ہے وہ بھی گوارہ کرتے ہوئے
- 15 ابھی وہ زد میں نہیں ہے مگر نشانے پہ ہے
- 16 بھلا کب تک یوںہی یہ کار ایثاری کریں گے ہم
- 17 یوںہی اے لذت آزار رہو
- 18 طلسم خانۂ صوت و صدا میں کچھ بھی نہ تھا
- 19 سمجھ میں کچھ نہیں آتا ہے یا سمجھتا ہوں
- 20 کہاں مرنا تھا مجھے اور کدھر آتا ہوا ہوں
- 21 زمیں کہیں نہیں ہے آسماں کوئی نہیں ہے
- 22 کیا سے کیا کچھ نہیں ہے بنتا ہوا ہوتا ہوا
- 23 رخ بدلتے ہی چلے جائیے گا
- 24 سخن کی گرمئ بازار سے زیادہ ہے
- 25 یقیں سے دور بہت دور اور گمان سے باہر
- 26 کوئی سودا بھی مرے سر میں نہ رکھا ہوا ہو
- 27 تلاش کرتا ہے ہر شے میں کوئی دوسری چیز
- 28 عجیب دن ہیں کہ لگتا ہے رات چل رہی ہے
- 29 شفا کی خاک تھی یا پھر ہنر کی مٹی تھی
- 30 قدم قدم یہاں درپیش تازہ مسئلہ ہے
- 31 نظر میں کوئی بحر بیکراں رکھا ہوا ہے
- 32 اس کھنڈر پر نئی بنیاد اٹھانا ہے مجھے
- 33 کنار خواب سے دل کو نکال کر لے جائے
- 34 کسی کے انتظار میں نہیں ہوں
- 35 چلتے چلتے تھکتے چلے جاتے ہیں ہم
- 36 دیکھتے دیکھتے منظر سے الگ ہو جانا
- 37 منزل ہاتھ نہیں آ پاتی خواب ادھورا رہ جاتا ہے
- 38 روحوں کی خاموشی میں آواز لگاتے رہا کرو
- 39 دلوں میں اب اگر ایسے خلا کی لعنت ہے
- 40 شفق ہے شعلہ فشاں شام ہونے والی ہے
- 41 اب تو یوں خواب کے رستوں پہ قدم رکھتا ہوں
- 42 جینے والا ہوں نہ مرنے والا
- 43 یہ اور بات مکرر سنا گیا ہم سے
- 44 چراغ خواب جلاتا ہوا چلا گیا ہوں
- 45 غرور یہ بھی ہنر سے نکلتا جاتا ہے
- 46 مرے لہو سے گزرتا ہوا ملا ہے مجھے
- 47 سرے سے ہو کوئی جیسے سرا ملایا ہوا
- 48 نظر میں عکس ہے اک آئنے کے ہونے سے
- 49 چٹختا رہتا ہے رات دن جو دماغ میرا
- 50 مرے ہی خواب کی تعبیر کرنے کے لیے ہے
- 51 اس کج دماغ سے نہیں ملنے کا تھا دماغ
- 52 غم کی لے پر تھرک رہی ہے رات
- 53 ہمارے دل میں کوئی یاد ہے تو کس لیے ہے
- 54 کہیں کہیں جو ذرا حاشیہ چڑھا ہوا ہے
- 55 مرے سخن میں جو حرف و بیاں کا ذائقہ ہے
- 56 دیکھتے رہتے ہیں یوں دیدۂ نم سے کوئی خواب
- 57 دوشیزہ زمینیں ہیں ممنوعہ علاقہ ہے
- 58 ہم جو اس خانہ خلوت میں پڑے رہتے ہیں
- 59 طلب کچھ بھی نہیں اور تلملاہٹ ہوتی رہتی ہے
- 60 نشہ اپنا نہ خمار اپنا ہے
- 61 ہم عشق بھی گاہ کر کے دیکھا
- 62 افراتفری تھی ایسی جلدی میں
- 63 خوشبو کی طرح دل میں بسا کر اسے دیکھو
- 64 اپنے آپ کو دیکھ رہا ہوں حیرانی حیرانی سے
- 65 خواب تھا خواب کے اندر نظر آنے والا
- 66 ہر ایک راہ گزر سے گزارہ مقصد تھا
- 67 زندگی کا زخم بھر نہیں سکا
- 68 دل میں جو کچھ ہے کہو سوچو مت
- 69 اگر ملے گا کہیں کچھ تو کچھ گنوا کے ملے گا
- 70 خود اپنی دھند سے ہوتا نکل بھی سکتا ہوں
- 71 دل سے دم لینے کی مہلت بھی نہیں مانگتے ہیں
- 72 عجیب طرح کا یہ اہتمام مجھ سے ہوا
- 73 تنی ہی رہتی ہے تلوار سی کوئی مرے سر پر
- 74 رنگ سے اڑتے ہیں اور روشنی آواز میں ہے
- 75 جب کوئی آئنہ بھی نہ تھا میرے سامنے
- 76 اک خواب سے گزر کر اک بے خودی سے ہو کر
- 77 نظر میں پھول کھلے ہیں لہو مہکتا ہے
- 78 نیند میں چلتا ہوں سپنے کی طرف جاتا ہوں میں
- 79 نہیں کہ دل میں محبت زیادہ ہو گئی ہے
- 80 یوں تو اس شہر میں ایک اک سے سوا عورت ہے
- 81 آخرش اس بحر کی تہ میں اتر جانے کے دن
- 82 اگر تری آنکھ کے اشارہ نہیں رہیں گے
- 83 مرنے والوں کی ہے یہاں بھرمار
- 84 آتے ہیں اور تصویر ہو جاتے ہیں خواب
- 85 وجود کا انحصار گو خاک پر نہیں تھا
- 86 گئے منظروں سے یہ کیا اڑا ہے نگاہ میں
- 87 راستہ خواب کے اندر سے نکلتا ہوا تھا
- 88 یہ جبر بھی ہے بہت اختیار کرتے ہوئے
- 89 ذرا سی دیر کو چمکا تھا وہ ستارہ کہیں
- 90 ہر پھول ہے ہواؤں کے رخ پر کھلا ہوا
- 91 دیکھے کوئی تعلق خاطر کے رنگ بھی
- 92 انا کو باندھتا رہتا ہوں اپنے شعروں میں
- 93 میں سوچتا ہوں اگر اس طرف وہ آ جاتا
- 94 فصیل شہر تمنا میں در بناتے ہوئے
- 95 اپنا دیوانہ بنا کر لے جائے
- 96 وہ سر سے پاؤں تک ہے غضب سے بھرا ہوا
- 97 قدم قدم پہ کسی امتحاں کی زد میں ہے
- 98 اسی طرح کے شب و روز ہیں وہی دنیا
- 99 کمی رکھتا ہوں اپنے کام کی تکمیل میں
- 100 اسی طرح کے شب و روز ہیں وہی دنیا
- 101 نگاہ کے لیے اک خواب بھی غنیمت ہے
- 102 کسی نظر نے مجھے جام پر لگایا ہوا ہے
- 103 گھڑی گھڑی اسے روکو گھڑی گھڑی سمجھاؤ (ردیف .. ٔ)
- 104 جب سفر سے لوٹ کر آنے کی تیاری ہوئی
- 105 کبھی جو راستہ ہموار کرنے لگتا ہوں
- 106 روک سکتا تھا کسی کو میں مگر جانے دیا
- 107 اس اندھیرے میں جو تھوڑی روشنی موجود ہے
- 108 دل بھی آپ کو بھول چکا ہے
- 109 دھوپ جب ڈھل گئی تو سایہ نہیں
- 110 شب سیاہ پہ وا روشنی کا باب تو ہو
- 111 کرتا کچھ اور ہے وہ دکھاتا کچھ اور ہے
- 112 اصل حالت کا بیاں ظاہر کے سانچوں میں نہیں
- 113 تمہارے بعد رہا کیا ہے دیکھنے کے لیے
- 114 کہاں کسی پہ یہ احسان کرنے والا ہوں
- 115 گزرتے وقت کی کوئی نشانی ساتھ رکھتا ہوں
- 116 دے رہے ہیں جس کو توپوں کی سلامی آدمی
- 117 کسی طرح بھی تو وہ راہ پر نہیں آیا
- 118 مقام شوق سے آگے بھی اک رستہ نکلتا ہے
- 119 منافقت کا نصاب پڑھ کر محبتوں کی کتاب لکھنا
- 120 بس ایک بات کی اس کو خبر ضروری ہے