کلامِ شاعر
- 01 جمہوریت
- 02 اپنی جنگ رہے گی
- 03 ماں
- 04 میں غزل کہوں تو کیسے کہ جدا ہیں میری راہیں
- 05 ممتاز
- 06 دستور
- 07 اے چاند یہاں نہ نکلا کر
- 08 جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہے
- 09 ابھی اے دوست ذوق شاعری ہے وجہ رسوائی
- 10 ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
- 11 مولانا
- 12 اٹھا رہا ہے جو فتنا میری زمینوں میں
- 13 مجبور عورت دا گیت
- 14 زنداناں دے در نہیں کُھلدے ہنجُواں ہاواں نال
- 15 جالب سائیں کدی کدائیں چنگی گلّ کہہ جاندا اے
- 16 اُچیاں کندھاں والا گھر سی رو لیندے ساں کُھل کے
- 17 رات کُلیہنی
- 18 دھی کمی دی
- 19 ماں بولی
- 20 مہتاب صفت لوگ یہاں خاک بسر ہیں
- 21 ذرے ہی سہی کوہ سے ٹکرا تو گئے ہم
- 22 یوں وہ ظلمت سے رہا دست و گریباں یارو
- 23 یہ سوچ کر نہ مائل فریاد ہم ہوئے
- 24 یہ جو شب کے ایوانوں میں اک ہلچل اک حشر بپا ہے
- 25 یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم
- 26 وہ دیکھنے مجھے آنا تو چاہتا ہوگا
- 27 وطن کو کچھ نہیں خطرہ نظام زر ہے خطرے میں
- 28 وہی حالات ہیں فقیروں کے
- 29 اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیں
- 30 اس نے جب ہنس کے نمسکار کیا
- 31 تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
- 32 ترے ماتھے پہ جب تک بل رہا ہے
- 33 شعر سے شاعری سے ڈرتے ہیں
- 34 شعر ہوتا ہے اب مہینوں میں
- 35 پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے
- 36 پھر دل سے آ رہی ہے صدا اس گلی میں چل
- 37 نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں
- 38 میرؔ و غالبؔ بنے یگانہؔ بنے
- 39 لوگ گیتوں کا نگر یاد آیا
- 40 کچھ لوگ خیالوں سے چلے جائیں تو سوئیں
- 41 خوب آزادئ صحافت ہے
- 42 کون بتائے کون سجھائے کون سے دیس سدھار گئے
- 43 کم پرانا بہت نیا تھا فراق
- 44 کہیں آہ بن کے لب پر ترا نام آ نہ جائے
- 45 کبھی تو مہرباں ہو کر بلا لیں
- 46 جیون مجھ سے میں جیون سے شرماتا ہوں
- 47 جھوٹی خبریں گھڑنے والے جھوٹے شعر سنانے والے
- 48 جاگنے والو تا بہ سحر خاموش رہو
- 49 اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے
- 50 اک شخص با ضمیر مرا یار مصحفیؔ
- 51 ہجوم دیکھ کے رستہ نہیں بدلتے ہم
- 52 ہم نے دل سے تجھے سدا مانا
- 53 فیضؔ اور فیضؔ کا غم بھولنے والا ہے کہیں
- 54 دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے
- 55 دل والو کیوں دل سی دولت یوں بیکار لٹاتے ہو
- 56 دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا
- 57 دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں
- 58 دل پر شوق کو پہلو میں دبائے رکھا
- 59 درخت سوکھ گئے رک گئے ندی نالے
- 60 چور تھا زخموں سے دل زخمی جگر بھی ہو گیا
- 61 بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئی پیارے
- 62 بٹے رہو گے تو اپنا یوں ہی بہے گا لہو
- 63 بہت روشن ہے شام غم ہماری
- 64 بڑے بنے تھے جالبؔ صاحب پٹے سڑک کے بیچ
- 65 باتیں تو کچھ ایسی ہیں کہ خود سے بھی نہ کی جائیں
- 66 اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا
- 67 اپنوں نے وہ رنج دئے ہیں بیگانے یاد آتے ہیں
- 68 افسوس تمہیں کار کے شیشے کا ہوا ہے
- 69 اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں
- 70 آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہ