کلامِ شاعر
- 01 تھکن
- 02 دوپہر
- 03 رات
- 04 کاٹھ کا گھوڑا
- 05 مشورہ
- 06 دوپہر
- 07 بائی آنکھ میں تل والے کی زبانی
- 08 صبح
- 09 صبح
- 10 چھتری دل کا ایک سپاہی
- 11 فالج زدہ ہاتھ
- 12 چابی كا بھالو
- 13 مجرم
- 14 ایک نظم
- 15 شہرتؔ
- 16 آنکھیں
- 17 ایک نظم
- 18 شام
- 19 اکیلی عورت اور ٹی وی
- 20 آئے ہے بے کسیٔ عشق پہ
- 21 رات
- 22 واپسی
- 23 چور ہوا
- 24 شام
- 25 راستے میں اک گاؤں
- 26 خوفناک کمرہ
- 27 موت
- 28 نئے سال کا سورج
- 29 چیل کا سایا
- 30 لوٹتے ہوئے
- 31 کتھئی لمس سیاہی مائل
- 32 یہ رات اور دن
- 33 تتلی
- 34 لڑکی
- 35 اک تصویر تجریدی
- 36 ایک شام باغ میں
- 37 مزید ہتک
- 38 رشوت خور دہائی
- 39 خلل
- 40 گھر کی چنتا
- 41 انتقام
- 42 دستک
- 43 جرم و سزا
- 44 ڈریکولا
- 45 گرمی
- 46 کھلونے
- 47 ڈوبنے سے پہلے
- 48 یہ سب کیا تھا
- 49 دن بارش کے
- 50 ولف مین
- 51 رد عمل
- 52 پیشکش
- 53 رو میں ہے رخش عمر
- 54 نیند
- 55 تنہائی
- 56 روٹی
- 57 تیسری آنکھ
- 58 چوتھا آسمان
- 59 میرا منا
- 60 یکم جنوری
- 61 نوحہ
- 62 کہاں دفن ہے وہ
- 63 میرے سامنے
- 64 جل مرنے سے پہلے
- 65 یادیں
- 66 میں اور تو
- 67 اکیلی عورت اور ٹی وی
- 68 پہلا خدا
- 69 گھوڑے پر اک لاش
- 70 ہوا سرد ہے
- 71 قبر میں
- 72 سورج
- 73 خدا کہاں ہے
- 74 بائیں آنکھ میں تل والے کی زبانی
- 75 تلاش
- 76 شکست
- 77 قرب و بعد
- 78 ایسا ہو
- 79 ایک بچہ
- 80 خالی مکان
- 81 مچھلی کی بو
- 82 کتبہ
- 83 نیند آئے تو
- 84 کبھی کبھی
- 85 مجھے ان جزیروں میں لے جاؤ
- 86 خدا
- 87 آگے مت سوچو
- 88 کون؟
- 89 تخلیق
- 90 مگر میں خدا سے کہوں گا
- 91 بند گھر اور چڑیا
- 92 گھر
- 93 اتفاق
- 94 اور پھر یوں ہوگا
- 95 اب جدھر بھی جاتے ہیں
- 96 وقت
- 97 مشورہ
- 98 بدن کا فیصلہ
- 99 دلی
- 100 جنم دن
- 101 ڈپریشن
- 102 آخری دن کی تلاش
- 103 یے آنکھ ہے تو اسے ایسی اب جلا مل جائے
- 104 ابھی تو اور بھی دن بارشوں کے آنے تھے
- 105 پکارتا ہوں پڑا ریگزار میں اب بھی
- 106 ایک سنسان رستہ پہ چلتے ہوئے
- 107 رات بیمار ستاروں سے بھری رہتی ہے
- 108 میں اپنا نام ترے جسم پر لکھا دیکھوں
- 109 رنگوں کا روپ زنانا ہے
- 110 کوئی ہے پر نظر آتا نہیں ہے
- 111 دکھ تو ہر گھر میں جاتا ہے
- 112 باتیں کہی کہی سی ہیں
- 113 عجب خوف سا دل پہ چھا جائے گا
- 114 ابھی میں نے اسے دیکھا نہیں ہے
- 115 گھر سے باہر کس بلا کا شور تھا
- 116 کبھی تو ایسا بھی ہو راہ بھول جاؤں میں
- 117 اک اک کر کے سب جاتے ہیں
- 118 بجھے بجھے باہر رہتے ہیں
- 119 سمندر میں سہارا رکھ لیا ہے
- 120 دن یوں گزر رہے ہیں
- 121 اک لڑکا تھا اک لڑکی تھی
- 122 ابھی رویا ابھی ہنسنے لگا ہوں
- 123 رات خواب میں ہم نے اور ہی مزہ پایا
- 124 اک ستارے نے آنکھ ماری ہے
- 125 رات کے منہ پہ اجالا چاہیئے
- 126 گھڑی بھر بھی دیکھا نہ بھالا مجھے
- 127 روٹی دال پکایا کر
- 128 خوش رہیں گھر میں عورتیں اپنی
- 129 اس کی بات کا پاؤں نہ سر
- 130 نئے شہر میں دن بیگانے ہوتے ہیں
- 131 شہر کیسا ہے مکاں کیسے ہیں
- 132 کوئی اچھا چہرہ نظر آئے تو
- 133 میں نوحہ گر ہوں بھٹکتے ہوئے قبیلوں کا
- 134 پہلے آنا کانی کر
- 135 سورج نکل رہا ہے
- 136 حال سنانا ہے اپنا
- 137 یقین کیسے دلاؤں کہ تجھ پے مرتا ہوں
- 138 رات بھر پی کے لڑکھڑاتے رہو
- 139 سوچتے رہتے ہیں اکثر رات میں
- 140 کوئی تو سہارا نظر آئے گا
- 141 عجب نہیں کہ پھر اک بار میں بدل جاؤں
- 142 کام کچھ ایسا آن پڑا ہے
- 143 اوروں کے گھر جلا کے قیامت نہ کر سکا
- 144 کچھ تو اس دل کو سزا دی جائے
- 145 ابھی تو پی کے جواں ہوئے ہیں
- 146 سایا سایا راہ میں بکھرا ہوا
- 147 بھید کچھ کھلتا نہیں دیوار و در میں کون ہے
- 148 چاند کی کگر روشن
- 149 شور ساحل کا سمندر میں نہ تھا
- 150 پڑھ کے حیراں ہوں خبر اخبار میں
- 151 سوتے سوتے اچانک گلی ڈر گئی
- 152 چاک کر لو اگر گریباں ہے
- 153 اٹھتے ہوئے قدموں کی دھمک آنے لگی ہے
- 154 بنا مرغے کے پر جھٹکتی ہیں
- 155 گھر نے اپنا ہوش سنبھالا دن نکلا
- 156 میں اپنے آپ سے ڈرنے لگا تھا
- 157 کل رات جگمگاتا ہوا چاند دیکھ کر
- 158 شانتی کی دکانیں کھولی ہیں
- 159 گھر سے باہر کس بلا کا شور تھا
- 160 یکہ الٹ کے رہ گیا گھوڑا بھڑک گیا
- 161 یار آج میں نے بھی اک کمال کرنا ہے
- 162 یونہی ہم پر سب کے احساں ہیں بہت
- 163 ساتویں منزل سے کودا چاہئے
- 164 نہ جانے دل کہاں رہنے لگا ہے
- 165 روشنی کچھ تو ملے جنگل میں
- 166 جاتے جاتے دیکھنا پتھر میں جاں رکھ جاؤں گا
- 167 کوئی بینڈ باجا سا کانوں میں تھا
- 168 اب کے برسات میں پانی آئے
- 169 زمین لوگوں سے ڈر گئی ہے
- 170 اسے نہ دیکھ کے دیکھا تو کیا ملا مجھ کو
- 171 سچ کہاں کہتا ہے جانے والا
- 172 ہوا چلی تو مرے جسم نے کہا مجھ کو
- 173 اس کی بات کا پاؤں نہ سر
- 174 برسوں گھسا پٹا ہوا دروازہ چھوڑ کر
- 175 اٹھی کچھ ایسے بدن کی خوشبو
- 176 ادھر رہا ہوں ادھر رہا ہوں
- 177 کبھی تجھ سے ایسا بھی یارانا تھا
- 178 دوا کوئی کیا کام لکھوں
- 179 زمیں کہیں بھی نہ تھی چار سو سمندر تھا
- 180 خواب میں ایک مکاں دیکھا تھا
- 181 کھڑکیوں سے جھانک کر گلیوں میں ڈر دیکھا کیے
- 182 رات ملی تنہائی ملی اور جام ملا
- 183 شگن لے کر نہ کیوں گھر سے چلا میں
- 184 وہ میرے ساتھ آنے پہ تیار ہو گیا
- 185 وہ دن کتنا اچھا تھا
- 186 گرہ میں رشوت کا مال رکھیے
- 187 ارادہ ہے کسی جنگل میں جا رہوں گا میں
- 188 ہر چند جاگتے ہیں پہ سوئے ہوئے سے ہیں
- 189 جاتی ہوئی لڑکی کو صدا دینا چاہیئے
- 190 آیا ہے ایک شخص عجب آن بان کا
- 191 ہر اک جھونکا نکیلا ہو گیا ہے
- 192 اور کوئی چارا نہ تھا اور کوئی صورت نہ تھی
- 193 تھوڑی سردی ذرا سا نزلہ ہے
- 194 دن بھر کے دہکتے ہوئے سورج سے لڑا ہوں
- 195 دکھ کا احساس نہ مارا جائے
- 196 سکھانے بال ہی کوٹھے پہ آ گئے ہوتے
- 197 سچ ہے کہ وہ برا تھا ہر اک سے لڑا کیا
- 198 ایسا ہوا نہیں ہے پر ایسا نہ ہو کہیں
- 199 رات پڑے گھر جانا ہے
- 200 تیسری آنکھ کھلے گی تو دکھائی دے گا
- 201 اچانک تری یاد کا سلسلہ (ردیف .. ا)
- 202 رات کے منہ پر اجالا چاہیئے
- 203 کیا کہتے کیا جی میں تھا
- 204 شعر تو سب کہتے ہیں کیا ہے
- 205 یوں تو کم کم تھی محبت اس کی
- 206 ابھی تو اور بھی دن بارشوں کے آنے تھے
- 207 گلوں کے درمیاں اچھی لگی ہیں
- 208 ہزاروں لاکھوں دلی میں مکاں ہیں
- 209 آفس میں بھی گھر کو کھلا پاتا ہوں میں
- 210 سوچتے رہتے ہیں اکثر رات میں
- 211 دھوپ میں سب رنگ گہرے ہو گئے
- 212 کوئی موسم ہو بھلے لگتے تھے
- 213 دن میں پریاں کیوں آتی ہیں
- 214 سفر میں سوچتے رہتے ہیں چھاؤں آئے کہیں
- 215 کل رات سونی چھت پہ عجب سانحہ ہوا
- 216 اس شہر میں کہیں پہ ہمارا مکاں بھی ہو
- 217 اک لڑکا تھا اک لڑکی تھی
- 218 کتنا حسین تھا تو کبھی کچھ خیال کر
- 219 آنکھ میں دہشت نہ تھی ہاتھ میں خنجر نہ تھا
- 220 شریفے کے درختوں میں چھپا گھر دیکھ لیتا ہوں
- 221 میں اپنا نام ترے جسم پر لکھا دیکھوں
- 222 کبھی تو ایسا بھی ہو راہ بھول جاؤں میں
- 223 آگ پانی سے ڈرتا ہوا میں ہی تھا
- 224 کچھ تو اس دل کو سزا دی جائے
- 225 کیوں نہ مہکیں گلاب آنکھوں میں
- 226 سردی میں دن سرد ملا
- 227 منہ زبانی قرآن پڑھتے تھے
- 228 دن اک کے بعد ایک گزرتے ہوئے بھی دیکھ
- 229 اور بازار سے کیا لے جاؤں
- 230 دھوپ نے گزارش کی
- 231 لبوں پر یوں ہی سی ہنسی بھیج دے
- 232 اچھے دن کب آئیں گے
- 233 نیند راتوں کی اڑا دیتے ہیں