کلامِ شاعر
- 01 پھر یوں ہوا کے ساتھ تیرا چھوڑنا پڑا
- 02 گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح
- 03 اسے اپنے فردا کی فکر تھی، جو میرا واقفِ حال تھا
- 04 بعد مدت اسے دیکھا لوگو۔۔
- 05 دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ
- 06 اجنبی!
- 07 رنج فراق یار میں رسوا نہیں ہوا
- 08 یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہوجاؤ
- 09 فبأیّ آلاء ربکما تکذبٰن
- 10 ہوا جام صحت تجویز کرتی ہے
- 11 مقتل وقت میں خاموش گواہی کی طرح
- 12 تخت ہے اور کہانی ہے وہی
- 13 عذاب اپنے بکھیروں کہ مُرتسم کر لوں
- 14 کتھا رس
- 15 بس اتنا یاد ہے
- 16 ہمیں خبر ہے ہَوا کا مزاج رکھتے ہو
- 17 خیال و خواب ہوا برگ و بار کا موسم
- 18 واہمہ
- 19 سوچوں تو وہ ساتھ چل رہا ہے
- 20 شام آئی تری یادوں کے ستارے نکلے
- 21 کچھ کم ہوش یہ کہتے ہیں
- 22 وہی نرم لہجہ
- 23 آج کی شب تو کسی طور گزر جائے گی
- 24 جب کبھی خوبیٔ قسمت سے تجھے دیکھتے ہیں
- 25 خوشی کی بات ہے یا دکھ کا منظر دیکھ سکتی ہوں
- 26 اتنے اچھے موسم میں روٹھنا نہیں اچھا
- 27 تازہ محبتوں کا نشہ جسم و جاں میں ہے
- 28 جو پھسلا میرے ہاتھ سے وہ پَل نہیں ملا
- 29 اتنا معلوم ہے!
- 30 پت جھڑ کے موسم میں تجھ کو
- 31 وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
- 32 وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتا
- 33 وقت رخصت آ گیا دل پھر بھی گھبرایا نہیں
- 34 ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا
- 35 تیری خوشبو کا پتا کرتی ہے
- 36 تیرا گھر اور میرا جنگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
- 37 تراش کر مرے بازو اڑان چھوڑ گیا
- 38 شوق رقص سے جب تک انگلیاں نہیں کھلتیں
- 39 شب وہی لیکن ستارہ اور ہے
- 40 رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھی
- 41 قید میں گزرے گی جو عمر بڑے کام کی تھی
- 42 قدموں میں بھی تکان تھی گھر بھی قریب تھا
- 43 پورا دکھ اور آدھا چاند
- 44 پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون
- 45 مشکل ہے کہ اب شہر میں نکلے کوئی گھر سے
- 46 کیا کرے میری مسیحائی بھی کرنے والا
- 47 کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
- 48 کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی
- 49 کچھ فیصلہ تو ہو کہ کدھر جانا چاہیے
- 50 کھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہے
- 51 کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
- 52 جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے
- 53 اک ہنر تھا کمال تھا کیا تھا
- 54 حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے
- 55 ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا
- 56 گلاب ہاتھ میں ہو آنکھ میں ستارہ ہو
- 57 گواہی کیسے ٹوٹتی معاملہ خدا کا تھا
- 58 گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح
- 59 ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا
- 60 دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہے
- 61 دل کا کیا ہے وہ تو چاہے گا مسلسل ملنا
- 62 دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا
- 63 ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کس سے بولئے
- 64 چراغ راہ بجھا کیا کہ رہنما بھی گیا
- 65 چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا
- 66 چارہ سازوں کی اذیت نہیں دیکھی جاتی
- 67 بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا
- 68 بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے
- 69 بجا کہ آنکھ میں نیندوں کے سلسلے بھی نہیں
- 70 بہت رویا وہ ہم کو یاد کر کے
- 71 بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے
- 72 بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا
- 73 اشک آنکھ میں پھر اٹک رہا ہے
- 74 اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرے
- 75 اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں
- 76 اپنی ہی صدا سنوں کہاں تک
- 77 عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی
- 78 اگرچہ تجھ سے بہت اختلاف بھی نہ ہوا
- 79 اب اتنی سادگی لائیں کہاں سے
- 80 اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتے