کلامِ شاعر
- 01 اولاد
- 02 فصیل شب
- 03 خاک پروانہ
- 04 شعلۂ حنا
- 05 خون کے پھول
- 06 اندھے پجاری
- 07 ہم ترے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح
- 08 ہم انتظار میں ہیں
- 09 آخری صدی کے موڑ پر
- 10 نیا خون
- 11 پچھتاوا
- 12 کیوں شمع جلائی آخر شب
- 13 وقت کی دھول
- 14 کھنڈر
- 15 کھویا ہوا گاؤں
- 16 اجنبی لمحے
- 17 سادگی
- 18 نیلی جلد کی کتاب
- 19 ایک لمحہ
- 20 یہ وہ بستی ہی نہیں
- 21 نظر پڑے تو غزل کے مزاج دانوں کی
- 22 ہم وقت کے الاؤ میں برسوں جلے میاں
- 23 پہلے ذرا محاسبۂ ذات بھی تو ہو
- 24 کیا کیا چہرے چیخ رہے ہیں یادوں کے انبار تلے
- 25 مجھے کوئی کیوں سمیٹے مری روشنی میں کیا ہے
- 26 جو راستے سے بھی گزریں انہیں حبیب رکھوں
- 27 مری شکست ترا امتحاں نہ بن جائے
- 28 جہاں دھواں تھا وہیں روشنی کے داغ بھی تھے
- 29 مرے خدا مری قید حیات کم کر دے
- 30 عذاب سا ہے دل نامراد پر کب سے
- 31 دانشوروں کے بس میں یہ رد عمل نہ تھا
- 32 نہ سوال جام نہ ذکر مے اسی بانکپن سے چلے گئے
- 33 مرے ہاتھ میں عشق کا ساز دے کر
- 34 آنکھ رکھتے ہوئے توہین نظر کون کرے
- 35 چہرے پہ انتظار کی پرچھائیاں ملیں
- 36 ساری دنیا کے تعلق سے جو سوچا جاتا
- 37 خیال و خواب بن کے میرے ذہن سے لپٹ گئے
- 38 خوابوں کے کسی موڑ پہ دیکھا سا لگے ہے
- 39 ہم بھی اپنے شہر میں یارو پھرتے تھے فرہاد بنے
- 40 دانشوروں کے بس میں یہ رد عمل نہ تھا
- 41 ہم نے لکھے تھے ہواؤں میں فسانے اپنے
- 42 پتوں کے ٹوٹنے کی صدا دیر تک چلی
- 43 منتشر ذہن کی سوچوں کو اکٹھا کر دو
- 44 ہوا بہت ہے متاع سفر سنبھال کے رکھ
- 45 یہ خواب جو ہم سفر ہیں میرے
- 46 وہی شکست سفر کا نشاں ہے چہرے پر
- 47 در و دیوار پہ ہجرت کے نشاں دیکھ آئیں
- 48 عہد جنوں میں بیٹھے بیٹھے جو غزلیں لکھ ڈالی تھیں
- 49 ذہن میں کون سے آسیب کا ڈر باندھ لیا
- 50 وہ ایک خیمۂ شب جس کا نام دنیا تھا
- 51 مایوسی کی برف پڑی تھی لیکن موسم سرد نہ تھا
- 52 صدیوں طویل رات کے زانو سے سر اٹھا
- 53 اس دور کی پلکوں پہ ہیں آنسو کی طرح ہم
- 54 مرے ساتھ چلتے چلتے یہ کہاں ٹھہر گئے تم
- 55 شہر غزل میں دھول اڑے گی فن بنجر ہو جائے گا
- 56 دن کی بے درد تھکن چہرے پہ لے کر مت جا
- 57 میں پچھلی رات کیا جانے کہاں تھا
- 58 بجتے ہوئے گھنگھرو تھے اڑتی ہوئی تانیں تھیں
- 59 دل کی آگ کہاں لے جاتے جلتی بجھتی چھوڑ چلے
- 60 دل بے تب و تاب ہو گیا ہے
- 61 تم سے بچھڑ گئے تو کسی سے ملے نہ ہم
- 62 یہ زندگی ہے کہ آسیب کا سفر ہے میاں
- 63 ڈوبنے والو ہواؤں کا ہنر کیسا لگا
- 64 زخموں کو مرہم کہتا ہوں قاتل کو مسیحا کہتا ہوں
- 65 اتنا سناٹا ہے بستی میں کہ ڈر جائے گا
- 66 پیا کرتے ہیں چھپ کر شیخ جی روزانہ روزانہ
- 67 دشت تنہائی میں کل رات ہوا کیسی تھی
- 68 زلف گھٹا بن کر رہ جائے آنکھ کنول ہو جائے
- 69 پھر مرے سر پہ کڑی دھوپ کی بوچھار گری
- 70 کاغذ کاغذ دھول اڑے گی فن بنجر ہو جائے گا
- 71 تری بے وفائی کے بعد بھی مرے دل کا پیار نہیں گیا
- 72 تم سے دو حرف کا خط بھی نہیں لکھا جاتا
- 73 تو اپنے پھول سے ہونٹوں کو رائیگاں مت کر
- 74 چاندنی تھا کہ غزل تھا کہ صبا تھا کیا تھا
- 75 اپنی تنہائی کی پلکوں کو بھگو لوں پہلے
- 76 برسوں کے رت جگوں کی تھکن کھا گئی مجھے
- 77 گھر بسا کر بھی مسافر کے مسافر ٹھہرے
- 78 آج برسوں میں تو قسمت سے ملاقات ہوئی
- 79 مسافروں کا کبھی اعتبار مت کرنا
- 80 بستی میں ہے وہ سناٹا جنگل مات لگے
- 81 تری گلی میں تماشا کیے زمانہ ہوا
- 82 ٹوٹے ہوئے خوابوں کی چبھن کم نہیں ہوتی
- 83 گھر لوٹ کے روئیں گے ماں باپ اکیلے میں
- 84 یوں بڑی دیر سے پیمانہ لیے بیٹھا ہوں
- 85 دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے
- 86 تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے