کلامِ شاعر
- 01 مامتا
- 02 شملے کی ریل گاڑی
- 03 کہانی کا سماں
- 04 بی مینڈکی
- 05 چڑیوں کی شکایت
- 06 جگنو
- 07 نذر وطن
- 08 یہ ساری خدائی ہمارے لیے ہے
- 09 شملہ
- 10 ساون کی گھٹا
- 11 جھولا
- 12 کشمیر
- 13 بستی کی لڑکیوں کے نام
- 14 گجرات کی رات
- 15 سورج کی کرنوں کا گیت
- 16 لکھنؤ
- 17 ننھا قاصد
- 18 وقت کی قدر
- 19 یہ دنیا کتنی پیاری ہے
- 20 انگوٹھی
- 21 آنسو
- 22 ایک شاعرہ کی شادی پر
- 23 مجھے لے چل
- 24 برکھا رت
- 25 دل و دماغ کو رو لوں گا آہ کر لوں گا
- 26 ایک لڑکی کا گیت
- 27 ایک حسن فروش سے
- 28 دریا کنارے چاندنی
- 29 ہماری زبان
- 30 بدنام ہو رہا ہوں
- 31 جہاں ریحانہؔ رہتی تھی
- 32 بنارس
- 33 اے عشق کہیں لے چل
- 34 او دیس سے آنے والے بتا
- 35 اے عشق ہمیں برباد نہ کر
- 36 حزیں ہے بیکس و رنجور ہے دل
- 37 زمان ہجر مٹے دور وصل یار آئے
- 38 بجھا سا رہتا ہے دل جب سے ہیں وطن سے جدا (ردیف .. ن)
- 39 ہمارے ہاتھ میں کب ساغر شراب نہیں
- 40 سما کر دل میں نظروں سے نہاں ہے
- 41 گلزار جہاں میں گل کی طرح گو شاد ہیں ہم شاداب ہیں ہم
- 42 دل دیوانہ و انداز بیباکانہ رکھتے ہیں
- 43 بجا کہ ہے پاس حشر ہم کو کریں گے پاس شباب پہلے
- 44 دل مہجور کو تسکین کا ساماں نہ ملا
- 45 دل میں خیال نرگس جانانہ آ گیا
- 46 نہ ساز و مطرب نہ جام و ساقی نہ وہ بہار چمن ہے باقی
- 47 ہر ایک جلوۂ رنگیں مری نگاہ میں ہے
- 48 دل شکستہ حریف شباب ہو نہ سکا
- 49 عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ہو گئیں
- 50 بہار آئی ہے مستانہ گھٹا کچھ اور کہتی ہے
- 51 سوئے کلکتہ جو ہم بہ دل دیوانہ چلے
- 52 غم زمانہ نہیں اک عذاب ہے ساقی
- 53 نہ وہ خزاں رہی باقی نہ وہ بہار رہی
- 54 یقین وعدہ نہیں تاب انتظار نہیں
- 55 وعدہ اس ماہرو کے آنے کا
- 56 غم خانۂ ہستی میں ہے مہماں کوئی دن اور
- 57 مری شام غم کو وہ بہلا رہے ہیں
- 58 خیالستان ہستی میں اگر غم ہے خوشی بھی ہے
- 59 جھوم کر بدلی اٹھی اور چھا گئی
- 60 یاد آؤ مجھے للہ نہ تم یاد کرو
- 61 آؤ بے پردہ تمہیں جلوۂ پنہاں کی قسم
- 62 کس کی آنکھوں کا لیے دل پہ اثر جاتے ہیں
- 63 مری آنکھوں سے ظاہر خوں فشانی اب بھی ہوتی ہے
- 64 اشک باری نہ مٹی سینہ فگاری نہ گئی
- 65 لا پلا ساقی شراب ارغوانی پھر کہاں
- 66 یارو کوئے یار کی باتیں کریں
- 67 اگر اے نسیم سحر ترا ہو گزر دیار حجاز میں
- 68 نہ تمہارا حسن جواں رہا نہ ہمارا عشق جواں رہا
- 69 نکہت زلف سے نیندوں کو بسا دے آ کر
- 70 اس مہ جبیں سے آج ملاقات ہو گئی
- 71 یوں تو کس پھول سے رنگت نہ گئی بو نہ گئی
- 72 نہ چھیڑ زاہد ناداں شراب پینے دے
- 73 تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جواں کر لوں
- 74 آشنا ہو کر تغافل آشنا کیوں ہو گئے
- 75 اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دے
- 76 کس کو دیکھا ہے یہ ہوا کیا ہے
- 77 وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیں
- 78 ان رس بھری آنکھوں میں حیا کھیل رہی ہے
- 79 آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا
- 80 نہ بھول کر بھی تمنائے رنگ و بو کرتے
- 81 ان کو بلائیں اور وہ نہ آئیں تو کیا کریں
- 82 محبت کی دنیا میں مشہور کر دوں
- 83 مجھے اپنی پستی کی شرم ہے تری رفعتوں کا خیال ہے
- 84 کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں
- 85 میں آرزوئے جاں لکھوں یا جان آرزو!
- 86 کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئے
- 87 کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا
- 88 وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجئے
- 89 اے دل وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئے