کلامِ شاعر
- 01 کچھ روشنی تھی چاروں طرف جو کہ رواں کی
- 02 اک ستارہ کے قریب آئیں گے ہم اور ابھی
- 03 دور اس سرحد دل پر بھی اترنا ہو گا
- 04 عشق میں دوہری مشقت کی ہے
- 05 گھر سے گھر گزرا گلی میں سے گلی جانے لگی
- 06 خوابیدہ ہیں اس لمس میں امکان کچھ ایسے
- 07 خاک اور خواب کی دہلیز سے باہر ہو کر
- 08 میں سبک ہوتا ہوا خواب گراں میں ایسا
- 09 کسی آئنے پہ میں پھر نظر نہیں کر سکا
- 10 سفر زیست کا کم کم ہنر آتا ہے مجھے
- 11 نام اور نقش کی سرحد سے ملا دے گا مجھے
- 12 اے مرے ہم کنار جسم چل مجھے بے کنار کر
- 13 منظر جاں کا سفر ہے پس منظر کی طرف
- 14 دشت نادیدہ سے پھر ربط بڑھانے لگے ہم
- 15 مرے بننے سے کیا کیا بن رہا تھا
- 16 دھوپ اس پار کی اس پار بنانے کے لیے
- 17 بدن کا کام تھوڑا ہے مگر مہلت زیادہ ہے
- 18 کچھ آنے والوں کی تاخیر سے تنگ آ گئے ہیں
- 19 گھر گھر کی شناخت کر رہا ہوں
- 20 ہجر و ہجرت کے ہوئے وعدہ و وصلت کے ہوئے
- 21 کسی بھی دشت نے ایسا نہیں گزارا دن
- 22 گھر گھر ہمیں قیام بھی آئے سفر بھی آئے
- 23 کسی اپنی زمیں پر اور کسی اپنے زمانے میں
- 24 اگر اس کوہ ندا پر سے اشارہ ہو جائے
- 25 سخن کچھ ایسے لہو کے لبوں سے نکلے ہیں
- 26 اک یہی خواب گزشتہ کی نشانی رہ گئی
- 27 پہلے تو اک چراغ کی آنکھوں میں ضم ہوئے
- 28 سر جڑا سایہ جڑا اس دور کی دیوار سے
- 29 تجھ میں کتنا گم ہوں اور کتنا نظر آتا ہوں میں
- 30 جز دیدۂ تر نقش بنایا نہیں جاتا
- 31 عشق نا عشق ہوا ذکر میں کم ہوتے ہوئے
- 32 ہر نفس جلتا چلا جائے پگھلتا چلا جائے
- 33 کیسا منظر تھا کہ پس منظر میں رہ جاتا رہا
- 34 صبح کی راکھ کا ہوں ڈھیر اور ہوں روشنی کی رات
- 35 دل ملیں بھی تو یہی ملنے کی صورت رہے گی
- 36 اپنی بنیاد ترے دل میں اٹھانا ہے مجھے
- 37 سوچی تھی اک دعا کی رات لکھے تھے کچھ دعا کے دن
- 38 یوں ہی چلتے چلتے فنا کے نہج پہ آ گیا
- 39 مجھے ڈھائے چلا جا مجھ کو بنائے چلا جا
- 40 مجھے آئنے میں اتار مجھ سے سوال کر
- 41 خواب کو خواب کی تعبیر سے پہچانا ہے
- 42 اک ذرا حالت وحشت میں رکھا جائے مجھے
- 43 بڑھا دیا ہے محبت نے انتشار مرا
- 44 دن ڈھل چکا ہے اور وہی نقشہ ہے دھوپ کا
- 45 دن بھر کے بعد چلئے تو کچھ دیر گھر کو بھی
- 46 متصل ہو تو گیا پاؤں کے چھالے سے مرے
- 47 جاری تھی ابھی دعا ہماری
- 48 اس کی آنکھوں میں ہماری شاعری گم ہو گئی
- 49 غیرممکن تھا چراغوں پہ گزارہ اپنا
- 50 درد کی دھوپ میں آ بیٹھیں تو جانا ہی نہ ہو
- 51 کام الجھا ہوا ہو جاتا ہے آسان مرا
- 52 سرائے بود میں بہتا ہوں ڈھلتا جاتا ہوں
- 53 شاید اپنے ساتھ پھر میرا گزارہ ہو سکے
- 54 سرا کی عمر کیا ہے ہمسرا کتنا پرانا ہے
- 55 ڈوب کر ابھرے ہیں کس زخم کی گہرائی میں ہم
- 56 آپ کی اور مری کمی کا شور
- 57 بدن کی ساکھ تو پوشاک سے نہیں بنتی
- 58 شعلۂ جاں مرے پیکر سے نکل آیا ہے
- 59 خامشی کی طرح تیری شام میں آنا مرا
- 60 چلتے میں قیام چل رہا ہے
- 61 دو آنکھوں سے نمٹائی ہے منظر کی اداسی
- 62 عشق ہی عشق مجھ کو مار گیا
- 63 تم مرے اندر تھے اور بنتا رہا باہر سے میں
- 64 در بنا بیٹھا ہوں دیوار بنا بیٹھا ہوں
- 65 عہد جفا سے وصل کا لمحہ جدا کرو
- 66 نظر سے خاص تھی جو شعلگی وہ عام ہوئی
- 67 دشت و دریا سے بھی کچھ ملنا ملانا ہوا ہے
- 68 یاد کرنے پہ بھی اب یاد نہ آنا دل کا
- 69 صبح کو تر کیا گیا شام کو نم کیا گیا
- 70 آنکھ تر ہو تو نظر آئے نظارہ اس کا
- 71 نام والے ہیں نہ یہ زخم نشاں والے ہیں
- 72 اس شام کے مٹ جائیں گے آثار کسی دن
- 73 دیوار کے پیچھے نہیں دیوار کے اندر ہوں میں
- 74 شب گزاری کا مجھے بھی ہنر آیا ہے کوئی
- 75 جاگتے میں سلا دیا ہے مجھے
- 76 دل ہو چراغ ہو کہ ستارہ کوئی تو ہو
- 77 بجھتے ہوئے چراغ پہ ڈالی ہے روشنی
- 78 کچھ بھی نہ جب دکھائی دے تب دیکھتا ہوں میں
- 79 اس گلی میں کچھ نہیں بس گھٹتا بڑھتا شور ہے
- 80 یہ خواب کیا ہے مری آنکھ میں ابھرتا ہوا
- 81 مٹی کے مکان دیکھتا ہوں
- 82 کبھی کبھی مری حیرت بڑھا بھی دیتا ہے
- 83 بولتے بولتے جب صرف زباں رہ گئے ہم
- 84 میرے اندر ہی کہیں آیا تھا طوفان مرا
- 85 دیا جلتا نہ تھا تو شام بھی ہوتی نہیں تھی
- 86 روشنی جیسے کسی شام کے آنے سے ہوئی
- 87 تیری خاموشی کو آنکھوں سے لگائے ہوئے ہیں
- 88 غبار شام وصل کا بھی چھٹ گیا
- 89 کیسا کیسا در پس دیوار کرنا پڑ گیا
- 90 جھگڑے اپنے بھی ہوں جب چاک گریبانوں کے
- 91 در امکاں سے گزر کر سر منظر آ کر
- 92 دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا
- 93 چار سمتوں میں نظر رکھتا ہوں میں چاروں پر
- 94 دیکھنا ہے کب زمیں کو خالی کر جاتا ہے دن
- 95 دانے کے بعد کچھ نہیں دام کے بعد کچھ نہیں
- 96 میں دنیا کی خاطر ہوں دل ہونے والا
- 97 موجۂ خون پریشان کہاں جاتا ہے
- 98 خواب کھلنا ہے جو آنکھوں پہ وہ کب کھلتا ہے
- 99 نقش کرتا رم و رفتار عناں گیر کو میں
- 100 صبح وفا سے ہجر کا لمحہ جدا کرو
- 101 گزرے نہیں اور گزر گئے ہم
- 102 میں ہوا تیرا ماجرا تو مرا ماجرا ہوا
- 103 خواب کو خوش نما بناتے ہوئے
- 104 دیے کا کام اب آنکھیں دکھانا رہ گیا ہے
- 105 جاری تھی ابھی دعا ہماری
- 106 خود میں اتریں تو پلٹ کر واپس آ سکتے نہیں
- 107 بنتے بنتے اپنے پیچ و خم بنے
- 108 پہلے تو مٹی کا اور پانی کا اندازہ ہوا
- 109 کچھ نہیں لکھا ہوا پھر بھی پڑھا جاتا ہے کیا
- 110 اوپر جو پرند گا رہا ہے
- 111 ابتدا سا کچھ انتہا سا کچھ
- 112 نقش تھا اور نام تھا ہی نہیں
- 113 تجھ میں کتنا گم ہوں اور کتنا نظر آتا ہوں میں
- 114 ہم رہ گئے ہمارا خلل کیوں نہیں رہا
- 115 مرے بننے سے کیا کیا بن رہا تھا
- 116 سیاہی گرتی رہے اور دیا خراب نہ ہو
- 117 آنکھوں سے یوں چراغوں میں ڈالی ہے روشنی
- 118 موجۂ خون پریشان کہاں جاتا ہے
- 119 محبت میں نہ جانے کیوں ہمیں فرصت زیادہ ہے
- 120 بولتے بولتے جب صرف زباں رہ گئے ہم
- 121 ایسا نہیں کہ اس نے بنایا نہیں مجھے
- 122 اب ایسے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں تھی
- 123 کچھ بھی نہ جب دکھائی دے تب دیکھتا ہوں میں
- 124 زمیں کا آخری منظر دکھائی دینے لگا
- 125 اب ایسے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں تھی